جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » جامعات » آئی-بی-اے کراچی یونیورسٹی

آئی-بی-اے کراچی یونیورسٹی

جب پاکستان میں لمس کے بعد یا سندھ میں کسی بزنس یونیورسٹی کا نام آتا ہے تو وہ پہلا نام آئی-بی-اے کراچی کا آتا ہے جہاں ہر پاکستانی نوجوان کے تعلیم حاصل کرنے کی خواہش ہوگی۔ اس کا موٹو "رہنمائی اور کل کے لیے تیاری" ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق یہ یونیورسٹی جو ۱۹۵۵ میں کراچی میں قائم ہوئی تھی، یہ جنوبی ایشیا کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں امریکہ کے ایم-بی-اے نصاب کے مطابق پڑھایا جاتا ہے۔
تاریخ
۱۹۵۵ء میں وارتھن اسکول یو-ایس-ایڈ کی مد د سے ایشیاء میں کسی بزنس اسکول کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی مدد سے پاکستان میں آئی-بی- اے کی بنیاد پڑی جوکہ وارتھن اسکول کا پھلا اسکول تھا۔
ابتداء میں صرف انڈر گریجویٹ پروگرام ہی یہاں ہوتے تھے۔ ۱۹۸۲ء میں یہاں بی-بی-اے کا پروگرام شروع کروایا گیا۔۱۹۹۴ء تک یهاں پر صرف گریجویٹ ہی کروایا جاتا ٹھا۔ مگر ۲۰۰۵ میں یہاں ایم-بی-اے سے لے کر پی-ایچ-ڈی تک کی تعلیم دی جاتی ہیں۔ ۲۰۰۶ ء میں اسے سنده گورنمنٹ کی طرف سے اسے پانچ ایکڑ کی زمین دی گئی جس پر یہ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکه سکیں۔
مضامین
یہاں پر جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے، بی-بی-اے ،ایم-بی-اے اکائونٹنگ، فائنانس اور ہیومن ریسورز کا ڈگری پروگرام کروایا جاتا ہے۔ اس کے علاوه کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، بی -ایس اور ایم-ایس کمپیوٹر سائنس ، سافٹ وئیر انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کروایا جاتا ہے۔ اس کے علاوه پی-ایچ -ڈی پروگرام کمپیوٹر سائنس، ایم-آئی-ایس ، انجینیئرنگ اور آئی -سی-ٹی میں کروایا جاتا ہیں۔
یہاں کے تعلیمی معیار کی وجہ سے یہاں کی تعلیم مہنگی هے مگر اس کے ساتھ ساتھ ذہین اور محنتی طلباء کے لیے اسکولر شپ کی سہولیات میسر ہے۔ جن طلباء کو پاکستان میں اچھی اور معیاری تعلیم کی خواہش ہیں وہ اس یونیورسٹی کا رخ ضرور کریں۔

آئی-بی-اے کراچی یونیورسٹی Reviewed by on . جب پاکستان میں لمس کے بعد یا سندھ میں کسی بزنس یونیورسٹی کا نام آتا ہے تو وہ پہلا نام آئی-بی-اے کراچی کا آتا ہے جہاں ہر پاکستانی نوجوان کے تعلیم حاصل کرنے کی خو جب پاکستان میں لمس کے بعد یا سندھ میں کسی بزنس یونیورسٹی کا نام آتا ہے تو وہ پہلا نام آئی-بی-اے کراچی کا آتا ہے جہاں ہر پاکستانی نوجوان کے تعلیم حاصل کرنے کی خو Rating:
scroll to top