جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » اہم » آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی زہانت

آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی زہانت

 آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی زہانت پربرطانیہ کے معروف سائنس دان سٹیون ہاکنگ کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی طرح سوچنے والی مشینوں کی تیاری بقائے انسانی کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا مصنوعی ذہانت کی سب سے سادہ مثال ربوٹ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ربوٹ تیزی کے ساتھ انسانی زندگی میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔

کمپیوٹر ٹیکنالوجی بنیادی علوم میں ایک نہایت ہی اہم علم ہے اور میکانیکل ، میٹالرجیکل ، الیکٹرانک ، کیمیکل انجینئرنگ، سول انجینئرنگ اور بائیو انجینئرنگ کے علوم کے ساتھ کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی میں ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اکیسویں صدی کی زندگی میں کمپیوٹر کو ایک لازمی حیثیت حاصل ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشیل انٹیلی جنس بہت تیزی سے ترقی کرنے والا اور ہمارے لئے یہ بہت ہی دلچسپ اور عقل و فہم کو للکار نے والے حل طلب مسئلہ جات پیش کرنے والا علم ہے۔

آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی عقل و فہم سے پُر کرنے والا علم ، موجودہ دور میں کمپیوٹر سسٹم میں روز بروز زیادہ رجوع کیا جا رہا ہے۔

کیا انسان اور ربوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جائے گا ؟

کمپیوٹر کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کمپیوٹر مائیکرو چپس بنانے والی مشہور کمپنی آئی بی ایم مصنوعی زہانت پر مسلسل تحقیق کررہی ہے۔مصنوعی زہاہت پر کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انسانی بھلائی کے بہت سارے کام کمپیوٹر سے لئے جا سکتے ہیں، آج پرسنل کمپیوٹرہر جگہ موجود ہے اور اس نے ہر شعبہ زندگی میں کام آسان کیا ہے۔ اسی طرح مستقبل میں بھی ایسے کمپیوٹر اور ربوٹ بنائے جائے گے جو خود کار طریقے سے اپنا کام سر انجام دیں گے۔

largeart-articleLarge

سائنسدانوں کا دعوی ہے کہ مستقبل میں نہ صرف پرسنل کمپیوٹرز انسانوں کی طرح سوچنے کے قابل ہوجائیں گے بلکہ ان کے ذریعے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس روبوٹ کی تیاری میں بھی اہم پیش رفت ہوگی اور ایسے روبوٹ عام ہوجائیں گے جو نہ صرف انسانوں کی طرح مختلف کام انجام دے پائیں گے بلکہ ان میں سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی بھی صلاحیت ہوگی.

انسان اور روبوٹ (مصنوعی زہانت کی مشین)

انسان کیسے سوچتے ہیں؟ کیسے منصوبہ بندی کرتے ہیں؟ مختلف مضامین کو سیکھنے میں کبھی بھی انسانی زہن انکار نہیں کرتا، مسلسل مشق کروائی جائے تو ہر انسان انتہائی قابل بن سکتا ہے،اسی طرح منطق کا کیا کردار ہے اور اچھےبرے کی تمیز کا بھی ایک خاص معیارہے، دوست اور دشمن کی پہچان۔ کیا یہ سب ایک ربوٹ نہیں کر پائے گا؟

یقینایہ زیادہ مشکل نہیں اور وہ وقت بھی دور نہیں جب ربوٹ انسان سی اچھی کارکردگی دکھائیں گے، مگر سوال یہ ہے کہ اگر ربوٹ نے خود کو ایک الگ مخلوق تصور کر لیا اور انسانیت کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا تو اسے روکے گا کون ؟

تصویر میں ایک ملٹری ربوٹ ہے جو خود کار طریقے سے دشمن پر حملہ کرتا ہے۔

تصویر میں ایک ملٹری ربوٹ ہے جو خود کار طریقے سے دشمن پر حملہ کرتا ہے۔

آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی زہانت Reviewed by on .  آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی زہانت پربرطانیہ کے معروف سائنس دان سٹیون ہاکنگ کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی طرح سوچنے والی مشینوں کی تیاری بقائے انسانی کے لیے  آرٹیفیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی زہانت پربرطانیہ کے معروف سائنس دان سٹیون ہاکنگ کا کہنا ہے کہ انسانی دماغ کی طرح سوچنے والی مشینوں کی تیاری بقائے انسانی کے لیے Rating:
scroll to top