ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تحقیق و جستجو » ابراہم لنکن

ابراہم لنکن

"جب میں کچھ اچھا کرتا ہوں، تب میں اچھا محسوس کرتا ہوں، جب میں کچھ برا کرتا ہوں، تب میں برا محسوس کرتا ہوں۔ یہی میرا مذہب ہے۔ "
یہ الفاظ ابراہم لنکن کے ہیں۔ جو کہ امریکہ کے سولہویں صدر تھے۔ آج ان کے بارے میں جانتے ہیں۔
ابتدائی زندگی
وہ کینٹکی کے ملک میں ۱۲ فروری ۱۸۰۹ ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک غریب کسان اور لکڑہارے تھے۔ جب وہ ۵ سال کے تھے تو وہ لوگ انڈیانا ہجرت کر گئے۔ جب وہ ۹ سال کے تھے تو ان کی والدہ فوت ہوگئی کچھ عرصے بعد ان کے والد نے دوسری شادی کرلیں۔ وه اپنی سوتیلی ماں سے بہت قریب تھے۔
نوجوانی کے دور سے انھیں جسمانی محنت طلب کام پسند نہیں تھے۔ وہ اکثر کتابیں پڑھتے ہوئے پائے جاتے تھے۔ انھوں نے اپنی تعلیم کتابوں سے حاصل کیں۔
شخصیت
ان کی شخصیت کا تصور کرتے ہی ایک پتلے، لمبے ایک مسکراتے ہوئے انسان کا تصور آتا ہے- ان کے خوبیاں تھی کہ و ایک صابر، حساس ، سادہ اور پرخلوص انسان تھے۔
ان کے سب سے بہترین خوبی تھی کہ وه کسی پر نکتہ چینی نہیں کرتے تھے۔ اگر ان کی بیوی یا کوئی کسی پر نکتہ چینی کریں تو وہ کہا کر تے تھے کہ کسی پر نکتہ چینی نہ کرو اگر ان جیسے حالات میں ہم ہوگے تو ہم بھی وهی کریں گے۔
کارنامے
انھوں نے صدر بننے کے بعد امریکہ کو سیول وار سے آزاد کیا۔ اس وقت جنوبی امریکہ سے غلاموں کی خرید و فروخت عام تھی۔ وہ غلامی کے خلاف تھے۔ انھوں نے امریکہ سے غلامی ختم کیں اور اس کی معشیت کو مضبوط کیا۔ بینک، ریل روڈ اور ٹریفک سسٹم سے روشناس کروایا۔ اس کی گورنمنٹ کو مضبوط کیا۔
مگر یہ سب کچھ انہیں یکمشت نہیں مل گیا تھا۔ اس کے لیے انھوں نے بے انتہاء محنت کیں۔
جدوجہد
ان کی پوری زندگی ان کی جدوجہد کے غماز ہیں۔ انھوں نے کبھی کالج کے شکل نہیں دیکھی۔ اپنی قانون کی پڑھائی انہوں نے قانون کی کتابیں پڑھ کے حاصل کیں۔ انھیں اپنے کاروبار میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انھوں نے ایک پوسٹ ماسٹر کی نوکری بھی کیں۔ ان کے نظریات کو کئی بار ناکامی کا ساما کرنا پڑا۔ مگر انھوں نے ہار نہیں مانی۔ اور ۱۹۵۶ء میں ایک نئی ریپبلیکن پارٹی کے رہنما بنے اور آخرکار ۱۹۶۰ء میں امریکہ کے صدر نامزد ہوئے۔
المیہ
ان سب کامیابیوں کے باوجود ان کی زندگی ایک المیہ تھی. ان کی پہلی محبت ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی اور جس عورت سے انھوں نے شادی کی وه انھیں زندگی بھر کوئی سکھ نہ دے سکیں۔ انھوں نے اپنے تین بیٹے کھوئے اور ۱۹۶۴ء میں ایک جاسوس کے ہاتھوں مارے گئے۔
مگر ان سب المیوں کے باوجود انھوں نے ایک مرد کی ہمت سے زندگی گزاری اور اپنے ملک کو بدلا اور آزادی دلائیں۔

ابراہم لنکن Reviewed by on . "جب میں کچھ اچھا کرتا ہوں، تب میں اچھا محسوس کرتا ہوں، جب میں کچھ برا کرتا ہوں، تب میں برا محسوس کرتا ہوں۔ یہی میرا مذہب ہے۔ " یہ الفاظ ابراہم لنکن کے ہیں۔ جو ک "جب میں کچھ اچھا کرتا ہوں، تب میں اچھا محسوس کرتا ہوں، جب میں کچھ برا کرتا ہوں، تب میں برا محسوس کرتا ہوں۔ یہی میرا مذہب ہے۔ " یہ الفاظ ابراہم لنکن کے ہیں۔ جو ک Rating:
scroll to top