اتوار , 23 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » ابراہیمؑ کی پیروی

ابراہیمؑ کی پیروی

عام الفیل کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ابوقحافہ کے گھر عورتوں کا جھمگٹا تھا کیونکہ آج اس کے ہاں ولادت ہونے والی تھی۔ ابوقحافہ باہر منتظر بیٹھا تھا کہ کسی نے آکر خبر دی کہ ”ابوقحافہ تمہیں بیٹے کی مبارک ہو“۔ وہ دوڑتا اندر گیا تو بیوی کے پہلو میں خوبصورت بچے کو دیکھ کر بے حد خوش ہوا“۔
بیوی نے کہا ”میں نے کعبے میں منت مانی تھی کہ بیٹا ہوا اور زندہ رہا تو عبدالکعبہ نام رکھوں
گی
لہذا آپ کا نام عبدالکعبہ رکھا گیا۔

ibrahim-name-arabic-caligraphy
وقت پر لگاکر اڑتا رہا۔ ایک دن سلمیٰ نے ابوقحافہ سے کہا کہ جب تو کعبہ جایا کرے تو کبھی کبھی بیٹے کو ساتھ لیجایا کر۔ ایک دن سوئے کعبہ جاتے ہوئے بیٹے کو دیکھا تو ساتھ لے لیا۔ راستہ میں عبداللہ نے ایک پتھر ہاتھ میں اٹھالیا۔
عثمان نے کہا ”بیٹا اسے پھینک دو، کعبہ میں پتھر نہیں لے جاتے“۔ ”اچھا تو اتنے پتھر کے بت جو کعبہ میں موجود ہیں“۔ عثمان ابوقحافہ لاجواب ہوگیا۔
اچھا اسے جیب میں ڈال لو“۔ لیکن جیب چھوٹی تھی پتھر بڑا، اس لیے ہاتھ میں ہی رہا۔ کعبہ میں پہنچ کر ابوقحافہ نے کہا ”بیٹے یہ ہمارے خدا ہیں انہیں سجدا کرو“۔ ”یہ ہمارے خدا ہیں“ عبداللہ نے حیرت و استعجاب سے کہا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا پتھر ایک بڑے سے بت کو مارا جس سے اس کی ناک کا ٹکڑا اڑ گیا۔ ابوقحافہ بھونچکا رہ گیا۔
جب حضرت ابوبکر صدیقؓ ایمان لائے تو رسول اکرم حضرت محمد ﷺ نے آپ کا نام عبدالکعبہ سے بدل کر عبداللہ رکھ دیا۔

ابراہیمؑ کی پیروی Reviewed by on . عام الفیل کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ابوقحافہ کے گھر عورتوں کا جھمگٹا تھا کیونکہ آج اس کے ہاں ولادت ہونے والی تھی۔ ابوقحافہ باہر منتظر بیٹھا تھا کہ کسی نے آکر خبر عام الفیل کی ایک خوبصورت صبح تھی۔ ابوقحافہ کے گھر عورتوں کا جھمگٹا تھا کیونکہ آج اس کے ہاں ولادت ہونے والی تھی۔ ابوقحافہ باہر منتظر بیٹھا تھا کہ کسی نے آکر خبر Rating:
scroll to top