جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » مشہور شخصیات » احمد فراز

احمد فراز

اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز! سونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی!" جب اردو کی جدید شاعری کا نام آئے گا احمد فراز کا نام پاکستان کے ہر نوجوان کے لبوں پر آئے گا۔ "محبت ان دنوں کی بات ہے فراز جب لوگ سچے اور مکان کچے تھے" یہ عظیم شاعر ہم سے ۲۵ اگست ۲۰۰۸ کو بچھڑ گئے۔ "اب کے بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملے جیسے سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملے" آزادی کے بعد وہ پشاور آگئے۔ انکی رگوں میں پختون خون تھا۔ انھوں نے فارسی اور اردو میں پشاور یونیورسٹی سے ماسٹر کیا۔ وہاں فیض احمد فیض اورعلی سردار جعفری ان کے سنگی ساتھی رہیں اور جہاں انھیں ان دونوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
"یوں تو کہنے کو بہت لوگ شناسا میرے
کہاں لے جائوں تجهے اے دل تنہا میرے"
ان کی شاعری میں بہت عام فہم الفاظ استعمال ہوتے ہیں مگر وہ آسان الفاظ هی انتہا گہرائی لیے ہوتے ہیں۔
"تمهارے شہر کا موسم بڑا سہانہ لگے،
میں ایک شام چُرا لوں اگر برا نہ لگے؛
ڈوبنا ہے تو اتنی خاموشی سے ڈوب،
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتہ نہ چلے."
ایک بار عید پر ان کے والد ان کے لیے عید کا جوڑا لے کے آئے تو انھوں نے یہ ان کے بھائی کو دے دیا۔ تب انھوں نے پہلا شعر کہا۔
"سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے لائے ہیں
میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے"
اپنے دور میں وه اپنی بےباک شاعری کے وجہ سے جیل بھی گئے تهے.
"ہم نے بزمِ یار میں کیا کیا شراب پی
صحرا کی تشنگی تھی دریا شراب پی"
مگر انکا کوئی کہنا تھاکہ کوئے انھیں اندر سے لکھنے کے لیے دبائو ڈالتا ھے۔
"آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا۔
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا؛
اتنا مانوس نہ ہو خلوتِ غم سے
اپنی تو کبھی
خود کو دیکھیں گا تو ڈر جائے گا"
ان کی زندگی میں انھیں ھلالِ امتیاز، ستارہ امتیاز اور انتقال کے بعد ھلالِ پاکستان سے نوازا گیا۔
"راہِ وفا میں حریفِ خرم کوئی تو ہو سو
هم اپنے آپ سےآگے نکل کے دیکھتے ہے"

آخر میں انکی خوبصورت سی نظم جس کے بنا انکا تعارف ادھورا ہے۔
"ہم پیار سیکھانے والے ہیں
تم اپنے عقیدے کے نیزے
ہر دل میں اتارے جاتے ہو،
ہم لوگ محبت والے ہیں
تم خنجر کیوں لہراتے ہو؟
اس شہر میں نغمے بہنے دو
بستی میں ہمیں بھی رہنے دو؛

ہم پالن ہار ہیں پھولوں کے
ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں؛
تم کس کا لہو پینے آئے؟
ہم پیار سِکھانے والے ہیں،
اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے؟
جب حرف یہاں مٹ جائے گا
جب تیغ پہ لے کٹ جائے گی،
جب شعر سفر کر جائے گا،
جب قتل ہوا سرُ سازوں کا،
جب کال پڑا آوازوں کا،
جب شہر کھنڈر بن جائے گا؛
پھر کس پر سنگ اُ ٹھائو گے؟
اپنے چہرے آئینے میں

جب دیکھوگے ڈر جائو گے!!!

احمد فراز Reviewed by on . اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز! سونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی!" جب اردو کی جدید شاعری کا نام آئے گا احمد فراز کا نام پاکستان کے ہر نوجوان کے لبو اس کی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز! سونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی!" جب اردو کی جدید شاعری کا نام آئے گا احمد فراز کا نام پاکستان کے ہر نوجوان کے لبو Rating:
scroll to top