جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » اہم » اسلام میں کثرت گمان کا تصور

اسلام میں کثرت گمان کا تصور

ارشاد باری تعالیٰ ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
الحجرات : 12
’’اے ایمان والو! کثرت گمان سے بچو۔ بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں‘‘
ظن اور گمان انسان کی باطنی بیماری ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم ظن اور گمان کے عادی بن جاؤ اور اس طرح دوسروں کے بارے ایسے خیالات اور نظریات رکھنا شروع کردو جن کے وہ حامل نہیں ہیں۔ اس سے نتیجتاً اپنے لئے گناہوں کو اکٹھا کرو گے کیونکہ ظن شیطان کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ شیطان ایمان والے کے دل میں دوسرے مسلمان کے متعلق بدگمانی کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس وسوسے کو اپنے دل میں جگہ نہ دیں بلکہ اس کی جگہ اپنے مسلمان بھائی کے متعلق نیک گمان رکھنا چاہئے اور اس پر قائم رہنا چاہئے۔ کیونکہ حسن ظن سے متعلق حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔
ایک اور جگه فرمایا
’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہوں جس کا وہ مجھ سے ظن رکھتا ہے۔ اب بندے کی مرضی ہے جیسا چاہے مجھ سے ظن رکھے‘‘ علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی
اگر کوئی شخص نیکی میں مشہور ہو تو اس کے متعلق بدگمانی کرنا جائز نہیں ہے اور جو اعلانیہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور فسق میں مشہور ہو اس کے متعلق بدگمانی کرنا جائز ہے۔
اسلام میں ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی جاسوسی کرنا اور اس کی پوشیدہ باتوں کا سراغ لگانے سے منع کیا گیا ہے بلکہ آقا علیہ السلام نے مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کاحکم دیا ہے
حدیث مبارک میں ہے
’’جو مسلمان اس دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘
بخاری، صحیح،
آج کے دور میں ہمارا وطیرہ بن گیا ہے کہ ہم دوسروں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ دوسروں کی ذاتی زندگی سے متعلق بھی یہی کوشش ہوتی ہے حالانکہ ان کی ذاتی زندگی سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اگر ویسے ہی کسی سے متعلق کسی بات کا پتہ چل جائے تو ممکن حد تک پردہ پوشی کرو تاکہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہاری پردہ پوشی کرے۔ پس ان تمام گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے جو ہمارے لئے جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں۔

اسلام میں کثرت گمان کا تصور Reviewed by on . ارشاد باری تعالیٰ ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ الحجرات : 12 ’’اے ایمان والو! کثرت گمان سے ارشاد باری تعالیٰ ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ الحجرات : 12 ’’اے ایمان والو! کثرت گمان سے Rating:
scroll to top