جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » اہم » اسماگ،لاہوریوں کیلئے نیاماحولیاتی مسئلہ:

اسماگ،لاہوریوں کیلئے نیاماحولیاتی مسئلہ:

ہر سال لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں دسمبر کے مہینے میں صبحیں اور شامیں دھندلی ہوجاتی ہیں۔ حد نظر کم ہونے کی وجہ سے فلائٹس یا تو منسوخ ہوجاتی ہیں یا کئی گھنٹوں کے لئے ملتوی۔ سڑکوں پر بھی دھند کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور حادثات میں ہر سال سردیوں میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ مگر اس برس تو عجب ہوا ہے۔ نومبر کے شروع میں ہی لاہور اور وسطی پنجاب کے دیگر شہروں میں گرد و غبار کی ایک چادر سی تن گئی ہے۔صبح کو تو حد نظر 300 میٹر سے بھی کم ہو جاتی ہے۔ ہوا میں ایک عجب سی چبھن ہے جو کہ شہریوں کی آنکھوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق گاڑیوں اور کارخانوں کا دھواں اور گردوآلود ایسے ہوا میں رچ بس گئے ہیں کہ سورج کی روشنی بھی چھن چھن کر ہی زمین تک پہنچ رہی ہے۔ لاہور ، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں سماگ کا مسئلہ حال ہی میں سامنے آیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فیکٹریوں سے بغیر ٹریٹمنٹ کے دھواں ہوا میں پھینکنا ہے۔ اور بغیر فٹنس کے گاڑیوں کا سڑکوں پر آنا ہے جن کا گہرا دھواں بھی ہوا کا حصہ بن رہا ہے۔۔ تاہم ان ماہرین ماحولیات کے پاس اپنی ان باتوں کو ثابت کرنے کے لئے نہ تو کوئی آلات ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا علم۔ ہوا کے معیار کو ماپنے کے لئے ایک ہی موبائل لیبارٹری موجود ہے۔ جو کہ ان دنوں لاہور سے باہر ہے۔ ان حالات میں تو کئی لوگ تو نت نئے سازشی مفروضے سامنے لا رہے ہیں۔کچھ افراد کے مطابق سرحد پار بھارتی پنجاب میں موجود تھرمل پاور پلانٹس کے دھوئیں کی وجہ سے لاہور میں سماگ کی چادر تن گئی ہے۔ جبکہ کچھ تو بہت دور کی کوڑی لارہے ہیں۔ ان کا تو یہ کہنا ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں پر چلائے گئی آنسو گیس کی وجہ سے لاہور اور پنجاب کے دیگرعلاقوں میں ماحولیاتی آلودگی بڑھی ہے۔ جس کا اظہار ان دنوں دھند نما کیفیت سے ہو رہا ہے۔
ماہرین موسمیات تو ان سازشی مفروضوں کو ماننے کو تیار نہیں۔ وہ تو صرف اس کو گردوغبار کی ایک تہہ ہی سمجھتے ہیں جو کہ خشک موسم کی وجہ سے فضا میں چھا گئی ہے۔ صرف بارش ہونے کی صورت میں ہی یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے۔ان کے مطابق تو ابھی یہ سلسلہ نومبر کے دوسرے ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔ جبکہ دسمبر میں شدید دھند کے متعدد سلسلے آسکتے ہیں۔ماہرین طب نے تو تجویز کیا ہے کہ چونکہ سماگ پر تو قابو پانا آسان نہیں البتہ اس کے اثرات سے بچا جاسکتا ہے۔بچوں کو بے جا باہر بھیجنے سے روکا جائے اور گھروں کی کھڑکیاں اور دروازے بن رکھے جائیں۔ کیوںکہ گردوغبار سے اٹی فضاء کی وجہ سے سانس اور گلے کی بیماریاں بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ تو ہے کہ دھویں ملی دھند سے بچنے کا وقتی طریقہ۔ مسئلے کا طویل المدت حل تو صرف ایک ہی ہے کہ صنعتوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کو روکنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا جائے جیسا کہ یورپی ممالک میں استعمال کی جارہی ہے۔ ملک میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے احتیاط سے لگائے جائیں کیونکہ دنیا بھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت بغیر وقت ضائع کیے ماحولیاتی تحفظ کے لئے اقدامات کیے جائیں تاکہ اپنی اگلی نسل کو سماگ کے اثرات سے بچایا جاسکے۔ کیونکہ احتیاط ہر لحاظ سے علاج سے بہتر ہے۔

اسماگ،لاہوریوں کیلئے نیاماحولیاتی مسئلہ: Reviewed by on . ہر سال لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں دسمبر کے مہینے میں صبحیں اور شامیں دھندلی ہوجاتی ہیں۔ حد نظر کم ہونے کی وجہ سے فلائٹس یا تو منسوخ ہوجاتی ہیں یا کئی ہر سال لاہور اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں دسمبر کے مہینے میں صبحیں اور شامیں دھندلی ہوجاتی ہیں۔ حد نظر کم ہونے کی وجہ سے فلائٹس یا تو منسوخ ہوجاتی ہیں یا کئی Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top