ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » مشہور شخصیات » اسٹیو جابس

اسٹیو جابس

آج کل کون سا گھرہے جہاں ٹیکنالوجی اور خاص طور پر ٹچ اسکرین کا استعمال نہ ہوتا ہو۔ تقریباً ہر دوسرا انسان اس سے واقف ہے۔ تو پھر آج کیوں نہ اس انسان سے واقف ہوا جائے جس کی بدولت ہم اس ٹیکنالوجی سے واقف ہوئے ہیں۔ جی ہاں! یہاں بات ایپل کمپنی کے سی- ای- او یا ڈائریکٹر اسٹیو جابس کی بات هو رہی ہے۔
کسی انسان کو مکمل جاننا آسان نہیں تو چلیں ان کی زندگی کے چند اوراق کا مطالعہ کرتے هیں۔
ان کے بائیولوجیکل والد ایک شامی مسلمان عبدالفتح اور والدہ جوآنے ایک امریکن تھی ان دونوں کی ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی۔ جب جوآنے امید سے ھوئی تو ان کےوالد نے عبدالفتح کو داماد کے روپ میں قبول کرنے سے انکار کردیا جس کی وجه سے ان کی والدہ نے انہیں ایک بے اولاد جوڑے پائول جابس اور کلارہ جاپس کو گود دے دیا۔ جن کے بارے میں اسٹیو جابس نےکہا ہے کہ بے شک وہی انکے ۱۰۰% اصلی والدین ہے۔ عبدالفتح اورجوآنے نے تو انھیں صرف پیدا کیا تھا۔
پائول جابس ایک الیکٹریشن تھےاور کلارہ ایک کلرک کی حیثیت سے کام کرتی تھی ان کی تربیت اور کامیابی میں ان کے اس ماں باپ کا بہت ہاتھ تھا۔ کلارہ جابس اسے پڑھاتی اور پائول ہمیشہ اپنے الیکٹرک کے کام کے دوران انکو ساتھ رکھتا یہی وجہ تھی که جابس کی شروع سے ٹیکنالوجی سے دلچسپی رہی۔ انھوں نے اپنی ابتدای تعلیممونٹا لوما ایلیمینٹری اسکول سے حاصل کیں۔ پھر ہمیسٹڈ هائی اسکول میں گئے.
جہاں ان کو اتفاقاً دوست بھی اپنے جیسے ملے۔ بل فرنینڈس انکا پڑوسی بھی تھا جس نے ان کی ملاقات ایک کمپیوٹر کے شوقین اور ان کے ہم نام لڑکے اسٹیو ووزنیک سے کروائی۔ ۱۹۶۹ میں ان کے دوستوں نے مل کر ایک کمپیوٹر بنایا جس کا نام انھوں نے کریم سوڈا کمپیوٹر رکھا کیوں کہ وہ کریم سوڈا بہت پیتے تھے۔
جابس ہائی اسکول کے لے ریڈ کالج میں پڑهنے گئے تووہاں کی پڑھائی کی ان کے ماں باپ گنجائش نہیں نکال سکتے تھے سو اسٹیو نے اپنی پڑھائی بیچ میں چھوڑی اور دوبارہ آکر شروع کی ایسے کہ وه اپنے دوستوں کے فرش پر سوتے اور کھانا کهانے کے لیے ایک ہری کرشنا مندر کا رخ کرتے جہاں انھیں مفت کا کھانا ملتا۔
۱۹۷۲ ء میں ان کے دوست اسٹیو ووزنیک نے ایک وڈیو گیم ایجاد کیں جسے بیچنے کے لیے اسٹیو اٹاڑی انک کمپنی گئے جھاں یه سمجھ کر انھیں کام مل گیا که یہ ان کی ایجاد ہے۔ خیر قصہ مختصر ۱۹۷۴ میں اسٹیو روحانیت کی تعلیم کے لیے بھارت گئے اور وہاں سات مھینے قیام کیا اس کے بعد وه واپس آگئے اور اپنے ہم نام دوست کے ساتھ ایک نئے پروجیکٹ بلو بوکس پر کام شروع کیا۔ اس کو لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا تو انھیں الیکٹرونکس کی اہمیت کا اندازه ہوا۔
۱۹۷۶ میں ووزنیک اور جابس نے مل کر ایک کمپنی کی شروعات کیں. جنھیں انھوں نے ایپل کمپیوٹر کمپنی کا نام دیا۔ اپنے گرمیوں کے ان دنوں کی یادگار میں جب وه لوگ درختوں سے سیب جنتے تھے۔ اسی سال ووزنیک نے ایپل کمپیوٹر بنایا اور اسے مارکیٹ میں متعارف کروایا۔ ۱۹۸۰ میں جابس نے مائوس کا تعارف کروایا۔ اور اس کے ایک سال بعد مکٹونش کا تعارف کمپیوٹر کی دنیا سے هوا۔

اسٹیو جابس Reviewed by on . آج کل کون سا گھرہے جہاں ٹیکنالوجی اور خاص طور پر ٹچ اسکرین کا استعمال نہ ہوتا ہو۔ تقریباً ہر دوسرا انسان اس سے واقف ہے۔ تو پھر آج کیوں نہ اس انسان سے واقف ہوا ج آج کل کون سا گھرہے جہاں ٹیکنالوجی اور خاص طور پر ٹچ اسکرین کا استعمال نہ ہوتا ہو۔ تقریباً ہر دوسرا انسان اس سے واقف ہے۔ تو پھر آج کیوں نہ اس انسان سے واقف ہوا ج Rating:
scroll to top