پیر , 24 جولائی 2017

Home » اہم » انسانی جسم میں دواؤں کو اپنے مقام تک پہنچانے والی پہلی ’’نینو مچھلی‘‘ تیار

انسانی جسم میں دواؤں کو اپنے مقام تک پہنچانے والی پہلی ’’نینو مچھلی‘‘ تیار

سان ڈیاگو، امریکہ: سائنسدانوں نے جسم کے مطلوبہ مقام پر دوا پہنچانے کے لیے دنیا کی سب سے چھوٹی ’نینو مچھلی‘ تیار کی ہے جو ریت کے ایک ذرے سے بھی 100 گنا مختصر ہے۔
سان دیاگو میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے اسے بنایا ہے جو طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نینو مچھلی کے ذریعے غیرضروری چیر پھاڑ کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے جسم کے اندر چند خلیات تک انتہائی درستگی کے ساتھ دوا پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور کینسر کے علاج میں یہ بہت مددگار ہوسکتی ہے۔
fish
اسے جست اور سونے کی پنیوں سے تیار کرکے اس میں چاندی کے جوڑ لگائے گئے ہیں۔ سونے کے ذرات پتوار اور دم کا کام کرتے ہیں جس سے مچھلی تیرتی ہے۔ اس کی لمبائی 800 نینو میٹر ہے ۔ واضح رہے کہ ایک میٹر کے ایک ارب برابر ٹکڑے کیے جائیں تو ایک حصہ نینومیٹریعنی ایک میٹر کا اربواں حصہ ہوگا۔
حقیقی مچھلی کو تیرتے ہوئے دیکھ کر اسے بنایا گیا ہے۔ اس مچھلی پر جب تھرتھراتا ہوا مقناطیسی میدان ڈالا جاتا ہے تو جست کے مقناطیسی ذرات ایک طرف سے دوسری جانب کھسکتے ہیں، یوں مچھلی کا سر اور دم ہلتے ہیں وہ آگے بڑھتی ہے۔ مقناطیسی میدان کی کمی و زیادتی اور رخ بدل کر اس مچھلی کی سمت اور رفتار قابو کی جاسکتی ہے۔
اس سے قبل بھی کئی ماہرین نے ننیو تیراک جیسی اشیا تیار کی ہیں اور یہ مچھلی بھی انہی ایجادات میں سے ایک ہے۔ اس میں دوا بھر کر اسے انجکشن کے ذریعے جسم میں داخل کرکے مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

انسانی جسم میں دواؤں کو اپنے مقام تک پہنچانے والی پہلی ’’نینو مچھلی‘‘ تیار Reviewed by on . سان ڈیاگو، امریکہ: سائنسدانوں نے جسم کے مطلوبہ مقام پر دوا پہنچانے کے لیے دنیا کی سب سے چھوٹی ’نینو مچھلی‘ تیار کی ہے جو ریت کے ایک ذرے سے بھی 100 گنا مختصر ہے۔ سان ڈیاگو، امریکہ: سائنسدانوں نے جسم کے مطلوبہ مقام پر دوا پہنچانے کے لیے دنیا کی سب سے چھوٹی ’نینو مچھلی‘ تیار کی ہے جو ریت کے ایک ذرے سے بھی 100 گنا مختصر ہے۔ Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top