پیر , 24 جولائی 2017

Home » کالم و مضامین » انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی اشتہارات

انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی اشتہارات

انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی اشتہارات
اخلاق، پردہ، شرم و حیا ایسی چیزیں ہیں جن کے ہرمعاشرہ میں الگ الگ پیمانے ہیں۔ دور کیوں جائیں اپنے ملک پاکستان کو لیں، ہمارے سرحدی صوبہ میں پختون، پٹھان اپنی عورت کو برقہ میں دیکھنا پسند کرتے ہیں، یہ انکی اخلاقی روایات ہیں۔ صوبہ پنجاب کے اضلاع میں برقہ کم ہے اور خواتین چادریا ڈوپٹے کا استعمال کرتیں ہیں۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں خواتین، یونیورسٹی جانے والی لڑکیوں اور بڑی تعداد میں نوکری سے منسلک امیر خواتین، پینٹ شرٹ، جینز پہننے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتیں۔

ایک طرف پردے کی تعریف یہ ہے کہ عورت مکمل برقے میں رہے، دوسری طرف کی منطق یہ ہے کہ مردوں کو اپنی شہوت اور گندی نظروں پر کنٹرول کرنا چاہیے، برائی کا مرکز عورت کا جسم نہیں، مرد کا ذہن ہے۔

اسی طرح امیر و کبیر خاندان کی لڑکیاں مکمل طور پر پڑوسی ملک کی فلموں سے متاثر نظر آتی ہیں نت نئے فیشن اور کم سے کم لباس کو ترقی کا معیار سمجھا جارہا ہے۔
مگر آج میرا موضوع ان سب سے الگ انٹر نیٹ پر ایک نظروں کو متاثر کرنے والے اشتہار کے بارے میں ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تین کروڑ یوزر انٹرنیٹ سے استفادہ کرتے ہیں۔ بڑی تعداد میں انٹرنیٹ کمپیوٹر سکرین پر دیکھا جاتا ہے۔
کیاآپ نے غور کیا، پلاننگ کے تحت یا پھر جان بوجھ کر ایسامواد مسلسل اشتہارات کی صورت میں دکھایا جا رہا ہے جو ہماری روایات ، معاشرت ، تہذیب، شرافت کے مخالف ہے۔

جہاں ہمیں مرد و خواتین کو شرم سے نگاہیں نیچے کرنے کا حکم ہے وہیں، بلا ارادہ ایسی چزیں مسلسل دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مانا کہ ہر انسان کا ان سے کوئی تعلق نہیں، مگر شعور ایسے چیزوں کو نظر انداز نہیں کرتا۔
اوراب شائید مزید ان چیزوں میں اضافہ ہو جائے۔

انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی اشتہارات Reviewed by on . انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی اشتہارات اخلاق، پردہ، شرم و حیا ایسی چیزیں ہیں جن کے ہرمعاشرہ میں الگ الگ پیمانے ہیں۔ دور کیوں جائیں اپنے ملک پاکستان کو لیں، ہمارے سرحدی انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی اشتہارات اخلاق، پردہ، شرم و حیا ایسی چیزیں ہیں جن کے ہرمعاشرہ میں الگ الگ پیمانے ہیں۔ دور کیوں جائیں اپنے ملک پاکستان کو لیں، ہمارے سرحدی Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top