اتوار , 23 جولائی 2017

Home » کالم و مضامین » اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جهٹلاؤں گے؟

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جهٹلاؤں گے؟

سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھے لوگ
الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے۔
بڑا خوبصورت سا شعر شاعر نے آج کے دور کے لوگوں کے لیے کہا ہے۔ خاص طور پر آج کل کے نوجوانوں کے لیے جن کی الجھنیں ایسی ہے کہ سلجھتی ہی نہیں۔ دماغ بڑی ہی پیچیدہ سی چیز ہے جسے آج تک بڑے بڑے سائنسدان بھی دریافت نہیں کرپائے۔ یہ لوگوں نے اس دماغ کی فیکٹری میں کتنے سوال چھپائے ہوتے ہیں جس کی گتھیاں نہیں کھلتی نتیجہ فرار کی صورت میں ہوتا ہے۔
اور وہ فرار عام طور پر نشہ یا خودکشی کی صورت ہوتا ہے، مایوسی کو کفر اسی لیے ہی تو کہا گیا ہے کہ یہ خدا پر سے اعتبار اٹھادیتی ہے۔ غمِ یاراں سے لے کے غمِ روزگار تک ہر غم تو آج کل کے نوجوانوں کو لگا ہوا ہے۔ بقول فیض:
زمانے میں اور بھی غم ہے محبت کے سوا
زمانے میں صرف محبت کا ہی غم ہوتا تو کیا ہی بات ہے؟ پر محبت کا غم بھی کچھ کم نہیں ہے۔ خیر ایسی حالت میں خوشی جادو کی چھڑی گھمانے سے نہیں ملتی ۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ اگر آپ کو خوشی کی تلاش ہے تو یہ آپ کو ایسے ملے گی کہ جیسے کسی بڑھیا نے بہت تلاش کے بعد اپنی عینک تلاش کر تو لی مگر ایسے کہ وہ اسے لگی ہوئی تهی۔
تو خوشی آپکے پاس ہی ہیں بس اسے محسوس کرنے کی ضرورت ہیں ۔ اس خوشی کو ہم آج کے افراتفری کے دور میں اس لیے بھی نہیں ڈھونڈ پاتے کہ ہم میں صبرو شکر کا فقدان ہے۔ کسی شارٹکٹ کے چکر میں جلدبازی کرتے ہیں پھر مایوس ہو کے غلط راستہ اختیار کرتے ہیں۔

اس لیے ہمیں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے صبروشکر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اس کا آسان طریقہ یہ کہ اپنی توقعات کو کم کر کے اپنے چھوٹے چھوٹے ٹاسک بنائے جائے بڑی منزل تک پہنچنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پڑائو پار کرنے پڑتے ہیں ۔ یکمشت کچھ نہیں ملتا ۔ زندگی جیسی نعمت کا شکر ادا کیجیے کہ جب تک سانس ہے تب تک آس ہے۔ اس بات کا شکر ادا کیجیے کہ اللہ پاک نے آپ کو مکمل بنایا ہے آپ کے پاس ہاتھ پیر جیسی نعمتیں انکے بدلے دنیا کی دولت بھی مل جائے تو کیا آپ اس کے بدلے میں لینا پسند کریں گے؟ کسی دانشور بزرگ کے بارے میں کہا جاتا ہے که:
ایک بار وه سڑک سے گزر رہے تھے تو انھوں نے الله پاک سے شکوه کیا کہ "میرے پاس جوتے نہیں ہے اوروں کے پاس ہے" یہ کہتے ہوئے ان کی نظر ایک ایسے انسان پڑ پڑی جس کے پاس پائوں نہیں تهے یہ دیکھ کر انھوں نے توبہ کی اور شکر ادا کیا کہ ان کے پاس پاؤں تو ہے. اس لیے شکر ادا کریں جو کچه آپ کے پاس ہے.

اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جهٹلاؤں گے؟ Reviewed by on . سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھے لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے۔ بڑا خوبصورت سا شعر شاعر نے آج کے دور کے لوگوں کے لیے کہا ہے۔ خاص طور پر آج کل کے نو سلجھا ہوا سا فرد سمجھتے ہیں مجھے لوگ الجھا ہوا سا مجھ میں کوئی دوسرا بھی ہے۔ بڑا خوبصورت سا شعر شاعر نے آج کے دور کے لوگوں کے لیے کہا ہے۔ خاص طور پر آج کل کے نو Rating:
scroll to top