پیر , 24 جولائی 2017

Home » اہم » ایران کا جوہری پروگرام

ایران کا جوہری پروگرام

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی معاہدے تک پہنچنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے ہیں۔ طويل المدتی ڈيل تک پہنچنے کے ليے عارضی معاہدے کی مدت ميں مزید سات ماہ کی توسيع کر دی گئی ہے۔

ویانا  اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنے متنازعہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق اہم سوالات کا جواب دینے سے گریز کر رہا ہے۔

ایران کے جوہری پروگرام کی تاریخ

ایران کا ایٹمی پروگرام امریکہ کی مدد سے 1950 میں شروع کیا گیا تھا۔ امریکہ کی مدد سے شروع کیا جانے والا یہ پروگرام "امن جوہری پروگرام " کے حصہ کے طور پراس وقت کے ایرانی شاہ کی کوششوں سے شروع کیا گیا تھا۔اس پروگرام میں امریکہ اور مغربی یورپی حکومتوں کی شرکت 1979 کے ایرانی انقلاب میں شاہ ایران کا تختہ الٹے جانے تک رہی۔ شروع میں ایران چاہتا تھا کہ اس پروگرام سے ملک کی ترقی میں مدد لی جائے گئی۔

1979 کے انقلاب کے بعد،ایران کے روحانی پیشوا جناب آیت اللہ روح اللہ خمینی (1902-1989) کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جوہری ہتھیار انسانیت کی خرابی کا باعث ہوتے ہیں۔ اس لئے ایران نے  بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں، حیاتیاتی ہتھیاروں، کیمیائی ہتھیاروں کے مختلف معاہدو ں پر دستخط کیے۔ ان معاہدوں کامقصدجوہری ہتھیار نہ بنانا کی یقین دہانی تھا۔

ایران کی جوہری تنصیبات اور2003-2013 تک معاہداتی پیش رفت

اوائل سے ہی ایرانی جوہری پروگرام کے مقاصد پر امن تھے، مگر وقت کے ساتھ ایران کی اعلی قیادت نے ایران کو جوہری طور پر مستحکم کرنے پر غور شروع کیا۔ ایران کے پہلے ایٹمی بجلی گھر کو روس کے تعاون سے 12 ستمبر 2012 کو مکمل کیا گیا۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لئے مزید ایٹمی بجلی گھر تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی

اقوام متحدہکی بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی( آئی اے ای اے )جو کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کی ذمہ دار ہے، کی رپوٹ میں بار بار کہا گیا کہ ایران جوہوری ہتھیاروں کی صلاحیت کے لئے کوشاں ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی  (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز نے ایران پر تنقید کی اور کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو پر دستخط کر چکا ہے، اس لئے وہ ہتھیاروں کے حصول سے باز رہے۔

حالیہ بات چیت میں شامل سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین( امریکہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی) ممالک ایران سے اس بات کا اظہار چاہتے ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ جوہری اسلحہ نہیں بنا رہا۔ دوسری جانب ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا، تاہم اسے ایٹمی توانائی درکار ہے۔

لنک۔اقوام متحدہ، ایران،

ایران میں ایٹمی تنصیبات

ایران میں ایٹمی تنصیبات

ایران کا جوہری پروگرام Reviewed by on . ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی معاہدے تک پہنچنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے ہی ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ متنازعہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی بھی معاہدے تک پہنچنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گئے ہی Rating:
scroll to top