اتوار , 23 جولائی 2017

Home » تحقیق و جستجو » ایشیا اور یورپ کا پل ترکی

ایشیا اور یورپ کا پل ترکی

سلطنت عثمانیہ کی وراثت رکھنے والا ملک ترکی جس میں ۷۵ فیصد مسلمان رہتے ہیں ایک لادینی، جمہوری ریاست ہے۔ یہ ملک خوبصورتی میں اپنی مثال آپ نھیں رکھتا ۔ اسلامی تاریخ کے اعتبار سے یہ بہت اہمیت کا حامل ملک ہے مگر آج کے دور میں یہاں مسجدوں کے علاوہ بہت کم چیزیں ھیں جس کو دیکھ کے لگتا ہے کہ یہ مسلمانوں کا ملک ہے۔ یہ ملک اپنے محل وقوع کے اعتبار سےیورپ اور ایشیا کے درمیان بهت اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔
ترکی کی سرحدیں ۸ممالک سے ملتی ہیں اس کے علاوہ بحری راستوں میں شمال میں ملکی سرحدیں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجیئناور بحیرہ مرمرہاور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔ ترکی یورپ اور ایشیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے قائم ہے اور دونوں براعظموں کے درمیان یہ تقسیم بحیرہ اسود سے آبنائے باسفورس، بحیرہ مرمرہاور دردانیال سے ہوتی ہوئی بحیرہ ایجن تک جاتی ہے۔

download (1)
دنیا کے جتنے قدیم ترین ملک ہے ان میں سے ایک میں ترکی کا نام بھی آتا ہے۔ ترکی کا موجودہ سیاسی نظام ۱۹۲۳ءمیں سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا.ترکی کا حکومتی نظام پارلیمانی جمہوریه هے جس میں حکومت کا سربراہ وزیر اعظم ہوتا ہے۔ ترکی کے ۸۱ صوبے ہیں. عام طور پر صوبہ اپنے صوبائی دارالحکومت کے نام پر ہی ہوتا ہے۔
اس کا سب سے بڑا شہر استنبول ہے جو کہ مساجد کا شہر کہلاتا ہے اور اس کا دارالحکومت انقرہ ہے۔ سیاحتی اعتبار سے یہ ایک بےانتہاء خوبصورت ملک ہے اور سیاحوں کےلیے کشش کا باعث ہے۔ ترکی کا گرم و خشک موسم گرما اور سرد و نم موسم سرما ہوتا ہے ترکی رقبے کے اعتبار سے دنیا کا ۳۷ نمبر پر سب سے بڑا ملک ہے۔

ایشیا اور یورپ کا پل ترکی Reviewed by on . سلطنت عثمانیہ کی وراثت رکھنے والا ملک ترکی جس میں ۷۵ فیصد مسلمان رہتے ہیں ایک لادینی، جمہوری ریاست ہے۔ یہ ملک خوبصورتی میں اپنی مثال آپ نھیں رکھتا ۔ اسلامی تاری سلطنت عثمانیہ کی وراثت رکھنے والا ملک ترکی جس میں ۷۵ فیصد مسلمان رہتے ہیں ایک لادینی، جمہوری ریاست ہے۔ یہ ملک خوبصورتی میں اپنی مثال آپ نھیں رکھتا ۔ اسلامی تاری Rating: 0

468x60-oew-web-banner

Leave a Comment

scroll to top