اتوار , 23 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » ایک انوکھا جھنڈا درفش کاویانی

ایک انوکھا جھنڈا درفش کاویانی

جھنڈا کسی بھی ملک کا علمبردار هوتا ہے۔ کسی بھی ملک کو پہچان اس کا جھنڈا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قومی تہوار پر جھنڈے کو بلند کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے لوگ مفتوحہ علاقوں پر اپنا پرچم لہرا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ فلاح علاقہ فلاح ملک کی ریاست ہے۔
ایک انوکھا اور شاید دنیا کا پہلا جھنڈا درفش کاویانی تها۔ یہ ایرانیوں کا ایسا امتیازی نشان تھا، جسے اڑھائی سے تین ہزار سال قبل مسیح کے دوران بنایا گیا۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ایران پر ضحاک نامی ظالم شخص حکومت کرتا تھا۔ تاریخ طبری کے مطابق اس نےایران پر ایک ہزار سال حکومت کیں اور اپنی حکومت کے دوران اس نے لوگوں پر بے شمار ظلم ڈھائے۔ لوگوں کو دار پر لٹکانا اور تازیانے لگوانا اس کا پسندیہ مشغلہ تھا۔ آٹھ سو سال گزرنے کے بعد اس کے کندھے کے ابھرے گوشت پر زخم نکل آئے۔ بہیترا علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا۔
ایک دن اسے خواب میں آیا کہ اس کے زخموں پر انسانی مغز لگانے سے افاقہ ہوگا۔ اس نے یہی کیا اور مثبت نتیجہ سامنے آنے لگا۔ اس روز سے یه معمول هوگیا۔ کہ گلی کوچوں سے دو آدمی پکڑ کر لائے جاتے اور انھیں مار کے انکا مغز ضحاک کے زخموں پر لگایا جاتا۔ ایک لوہار کاوه کے دو بیٹے بھی اس ظلم کا شکار ہو گئے، کاوہ کو پتہ چلا تو اس کو گہرا صدمہ پہنچا۔ اس نے اپنی دهونکنی کو ایک لکڑی سے باندھ کر بلند کیا اور کہا، "یہ آزادی کا علم ہے جو لوگ ضحاک کے خونی پنجوں سے آزاد هونا چاہتے ہیں وہ اس جھنڈے تلے آ جائے"

Darafsh Kaviani
اس نے اس جھنڈے کو موتیوں سے آراستہ کیا جس کی وجہ سے اس کا نام درفش کاویانی پڑ گیا۔ کاوه نے ایرانی لوگوں کو جمع کیا اور ضحاک کو شکست دیں ۔ آزادی کے بعد فریدون ایران کا بادشاہ بنا اور کاوه کو سپہ سالار اعلیٰ بنا دیا۔ اس کےبعد کاوه جہاں بھی گیا ، درفش کاویانی اس کے ساتھ تھا۔ بعد ازاں فریدون نے بیش بہا خزانے جواہرات اس پر ٹنکواد
ییے کہ چمڑا تک نظر نہ آتا۔
ایک عرب شاعر نے اسکا ذکر اپنے قصیدے میں کیا تھا:
نوشیرواں درفش کاویانی کے نیچے سپاہیوں کی صفیں لے کر چل رہا ہے"

ایک انوکھا جھنڈا درفش کاویانی Reviewed by on . جھنڈا کسی بھی ملک کا علمبردار هوتا ہے۔ کسی بھی ملک کو پہچان اس کا جھنڈا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قومی تہوار پر جھنڈے کو بلند کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے لوگ مفت جھنڈا کسی بھی ملک کا علمبردار هوتا ہے۔ کسی بھی ملک کو پہچان اس کا جھنڈا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قومی تہوار پر جھنڈے کو بلند کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے لوگ مفت Rating:
scroll to top