ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » ایک انوکھا شہر

ایک انوکھا شہر

ناصرالدین خلجی ، سلطان غیاث الدین خلجی کا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو قتل کروا کے ہندوستان میں اپنی من مانی شروع کردیں۔
اس کی طبعیت میں مہمات پسندی اور رنگین مزاجی نمایاں تھی ۔ اس کے دماغ نے ایک انوکھا منصوبہ بنایا ۔ اس نے ایک انتہائی خوبصورت اور دیدہ زیب شہر بنانے کا حکم دیا۔ جس کے کوچہ و بازار ، روشیں، خیابان، باغ اور تالاب ، نہریں ، آبشار ، جھیلیں ، جھرنے، محرابیں ، خوبصورت مکانات ، محلات اور دروبام بہترین شاہکار تھے۔ اس شہر کی خوبصورتی کا کوئی ہمسر نہ تھا۔
یہ شہر عورتوں کا شہر کہلاتا تھا ، اس شہر کے انتظام وانصرام اور آبادکاری کے لیے ملک کی حسین ترین عورتوں اور نوخیز دوشیزائوں کا انتخاب کیا گیا۔ ان کو انتظامی خدمات اور عہدے سونپ کر اس شہر میں آباد کیا گیا۔ ملکہ اور شہزادیوں کے محل سنہری رنگ کے تھے۔ اور اعلٰی عہدے داروں کے نقرئی رنگ کے اور زنانہ پولیس کے سرخ رنگ کے مکانات تھے۔
اس شہر بے مثال میں کوئی مسجد، مقبره یا خانقاہ نہیں تھی۔ مدرسے ، مکتب ، اور درس گاہیں تھی۔ مگر وھاں علم و ادب کے بجائے رقص و موسیقی ، آرائش گیسو، افزائش حسن ، زیورات سازی، ، عطرسازی اور فنونِ لطیفہ کی تعلیم و تدریس دی جاتی تھی۔
بادشاہ کی تفریح کے لیے کئی میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی ایک شکارگاہ بنوائی گئی۔ جس میں ہر قسم کے جانور چھوڑیں گئے۔عیدین کے موقع پر مینا بازار منعقد کیا جاتا تھا۔ جہاں پر دوکاندار اور خریدار دونوں خواتین هوتی تهیں۔ یه بازار تین دن یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ تک لگتا تها۔
بادشاہ کی آنکھ بند ہوتے ہی ، عالی شان محلات و مکانات پر امراء و رئوسا قابض ہوگئے۔ شہر کے کوچے ویران ہوگئے۔ صنفِ نازک پر مشتمل پندرہ سے بیس ہزار والی آبادی والے شہر کی داستان قصہ پارینہ بن گی۔

ایک انوکھا شہر Reviewed by on . ناصرالدین خلجی ، سلطان غیاث الدین خلجی کا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو قتل کروا کے ہندوستان میں اپنی من مانی شروع کردیں۔ اس کی طبعیت میں مہمات پسندی اور رنگین مز ناصرالدین خلجی ، سلطان غیاث الدین خلجی کا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے باپ کو قتل کروا کے ہندوستان میں اپنی من مانی شروع کردیں۔ اس کی طبعیت میں مہمات پسندی اور رنگین مز Rating:
scroll to top