جمعہ , 21 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » بادشاہی مسجد

بادشاہی مسجد

badshahi-mosque-26لاہور میں واقع بادشاہی مسجد کی تعمیر 1671 میں شروع ہوئی اور 1673 میں مکمل ہوئی۔ اس خوبصورت مسجد کو چھٹے مغل بادشاہ اورنگ ذیب عالمگیر نے تعمیر کروایا ۔ مسجد پاکستان اور جنوبی ایشاء کی دوسری بڑی مسجد ہے جبکہ پوری دنیا میں پانچویں بڑی مسجد ہونے کا اعزاز رکھتی ہے ۔ مسجد لاھور میں " اقبال پارک " میں واقع ہے ۔ مغل دور کی خوبصورتی اور عظمت سے مزین یہ مسجد لاکھوں دلوں کو نور پرور کر رھی ھے ۔ 1993 میں پاکستانی گورنمنٹ نے UNESCO کو اِسے عالمی ثقافتی ورثہ کی لسٹ میں بھی شامل کرنے کی تجویز دی ۔
7 جولائی 1799 میں جب سکھوں نے لاھور پر قبضہ کیا تو مسجد کی اس عمارت کوگھوڑں کے استبل کے طور پر استعمال کیا گیا ۔اس کے علاوہ مھا راجہ رنجیت سنگھ نے مسجد کے 80 ھجروں کو فوجیوں کے کواٹر اور جنگی ساز و سامان کے سٹور میں منتقل کر دیا ۔ مھا راجا رنجیت سنگھ نے حضوری باغ جو کہ مسجد کے بالکل ساتھ ہے ، کو شاہی عدالت کے طور پر استعمال کیا۔ 1841 میں جنگ کے دوران مھاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے مھا راجہ شیر سنگھ شیر سنگھ نے مسجد کے بڑے مینار کو سکھ مہرانی چاند کے سپاھیوں پر بندوقوں سے حملہ کے لیے استعمال کیا ۔ حملے میں عمارت کو بھی بھت نقصان پہنچا۔ بمباری کے دوران قلعہ دیوانِ عام کو بھی بہت نقصان پہنچا ۔ انگریزوں نے اسے دوبارہ تعمیر کیا مگر اس کے اصل فنِ تعمیر کے مقابل نہ پہنچ سکے۔ جب مھاراجا شیر سنگھ کی فوج میں فرانسیسی افسر کی بھرتی ھوئی تو اس نے مسجد سے لے کر لاھوری قلعہ تک خندق کھودی تاکہ اسلحہ کوذخیرہ کیا جا سکے ۔ badshahi_mosque_in_lahore_pakistan_interior-3541
1849 میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے لاہور پر فتح حاصل کی تو جسطرح سکھ اس مسجد کو استعمال کر ریے تھے بالکل اٗسی طرح استعمال کیا ۔ مگر سکھوں کی حکومت سے برطانوی حکومت تک مسجد کو فوجی جگہ کے طورپر استعمال کرنے پر مسلمانوں نے بہت مزمت کی ۔ مسلمانوں کی بڑھتی ھوئی مذمت دیکھ کر 1852 میں انگریزوں نے اسے دبارہ مسلمانوں کی عبادت کی جگہ میں تبدیل کر دیا ۔1939 میں سر سکندر حیات خان کی سربراہی میں مسجد کی مرمت کا کام سر انجام دیا گیا ۔ یہ مرمت 1960 تک جاری رھی اور اس پر تقریباٗ 4.8 ملین روپے کی لاگت آئ ۔ 
22 فروری 1974 میں 39 مسلم ممالک کے سربراہان نے اس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جن میں ذلفقار علی بھٹو ، سعودی عرب کے شاہ فیصل ، لبیاء کے معمر غدافی اور فلسطین کے یاسر عرفات وغیرہ شامل ھیں ۔ 2000 میں مسجد کے مین ہال کے فرش کی تبدیلی کی گئی ۔ جبکہ 2008 میں جےپور ، انڈیا سے خصوصاٗ منگوائے گئے سرخ پتھر سے مرمت کی گئی ۔ اب یہ خوبصورت مسجد اپنی 17 صدی کی حالت میں واپس آگئی ھے ۔ آج بھی بہت سے مسلمان ھر روز یہاں آ کر اپنے رب کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں ۔badshahi-masjid-lahore-6

بادشاہی مسجد Reviewed by on . لاہور میں واقع بادشاہی مسجد کی تعمیر 1671 میں شروع ہوئی اور 1673 میں مکمل ہوئی۔ اس خوبصورت مسجد کو چھٹے مغل بادشاہ اورنگ ذیب عالمگیر نے تعمیر کروایا ۔ مسجد پاکس لاہور میں واقع بادشاہی مسجد کی تعمیر 1671 میں شروع ہوئی اور 1673 میں مکمل ہوئی۔ اس خوبصورت مسجد کو چھٹے مغل بادشاہ اورنگ ذیب عالمگیر نے تعمیر کروایا ۔ مسجد پاکس Rating:
scroll to top