بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اہم » بین الاقوامی عدالت انصاف

بین الاقوامی عدالت انصاف

بین الاقوامی عدالت انصاف جس کا دفتر ہیگ میں ہے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا عدالتی ادارہ ہے۔ یہ عدالت متعلقہ قانون کے تحت کام کرتی ہے اور اس قانون کی دستاویز اقوام متحدہ کے منشور کا ایک لازمی حصہ ہے اس عدالت کے دروازے ان تمام لوگوں کے لئے کھلے ہیں جو اس قانون کے پابند ہیں۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے تمام ممالک خود بخود اس میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کوئی ملک اقوام متحدہ کا ممبر نہ ہو بعض شرائط کے تحت عدالت کے دائر ہ اختیار میں شامل ہو سکتا ہے۔ ان شرائط کا فیصلہ ہر صورت میں جنرل اسمبلی کی جانب سے سلامتی کونسل کی سفارش پر ہی کیا جاتا ہے۔

وہ تمام ممالک جو عدالت کے دستاویزقانون کے پابند ہوں اس کے مقدمات میں فریق ہو سکتے ہیں ۔ دوسرے ممالک بھی سلامتی کونسل کی مقرر کردہ شرائط کے تحت اپنے مقدمے بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سلامتی کونسل قانونی تنازعات کو عدالت میں پیش کرنے کی سفارش کر سکتی ہے۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کسی بھی قانونی مسئلے پر عدالت سے مشورہ طلب کر سکتی ہے۔
قانون کی دفعہ 38کے تحت زیر غور تنازعات کا فیصلہ کرتے وقت عدالت وقت اس متعدد امور کا خیال رکھتی ہے۔
۱۔ بین الاقوامی روایات و اصول جنہیں متعلقہ فریقین تسلیم کرتے ہوں۔
۲۔ بین الاقوامی رواج جسے عام دستور کے طور پر قانون کا درجہ حاصل ہوگیا ہو۔
۳۔ قانون کے عمومی اصول جنہیں فریقین تسلیم کرتے ہوں۔
۴۔ مختلف قوموں کے عدالتی فیصلے اور ممتاز ترین دانشور وں اور ماہرین قانون کے ارشادات جن سے اصول قانون کا تعین کرنے میں مدد لی جاسکے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف

ویب سائٹ۔ لنک

بین الاقوامی عدالت انصاف Reviewed by on . بین الاقوامی عدالت انصاف جس کا دفتر ہیگ میں ہے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا عدالتی ادارہ ہے۔ یہ عدالت متعلقہ قانون کے تحت کام کرتی ہے اور اس قانون کی دستاویز اقوام بین الاقوامی عدالت انصاف جس کا دفتر ہیگ میں ہے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا عدالتی ادارہ ہے۔ یہ عدالت متعلقہ قانون کے تحت کام کرتی ہے اور اس قانون کی دستاویز اقوام Rating:
scroll to top