جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » اہم » تاریخ کا تباہ کن زلزلہ ۔ ۔ کیا سبق سیکھا:

تاریخ کا تباہ کن زلزلہ ۔ ۔ کیا سبق سیکھا:

آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی لیپا کا رہنے والا دلپذیر اعوان کبھی بھی آٹھ اکتوبر 2005 کے دن کو نہیں بھلا سکتا۔ وہ مظفر آباد میں اس دن صبح سویرے اپنی تنخواہ نکلوانے بینک کی طرف رواں دواں تھا۔ کہ اچانک اس کے جسم کو جھٹکا سا لگا۔ زمین تھر تھرانے لگی۔ کسی فکشن فلم کے مناظر کی طرح اچانک ارد گرد کی عمارتیں زمین میں دھنسنے لگیں۔ یوں اکیسویں صدی کے ایک بڑے زلزلے کی وجہ سے آزاد کشمیر کے دارالحکومت کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوچکا تھا۔ آٹھ اکتوبر کی صبح سویرے ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق صرف اسلام آباد میں ایک عمارت مرگلہ ٹاور گری تھی۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا۔ تباہی کی داستانیں عام ہونے لگیں۔ دو تین روز کے بعد اہل پاکستان کو پتہ چلا کہ ریکٹر سکیل پر 7.6 ڈگری والے زلزلے کی وجہ سے آزاد کشمیر اور خیبر پختون خوا میں 83 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے تھے۔دو شہر مظفر آباد اور بالاکوٹ تو مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔ تباہی کے بعد ریلیف کا کام شروع ہوا تو اربوں ڈالرز کی غیر ملکی امداد آئی۔ مظفر آباد اور بالاکوٹ کو دور بسانے کا فیصلہ کیا گیا لیکن بعد میں مظفر آباد کو کہیں اور بسانے کا ارادہ تو تبدیل ہوگیا۔ مگر بالاکوٹ کو 20 کلومیٹر دور ایک نئی جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ مگر گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی نیا شہر بسانے کا خواب پورا نہیں ہوا۔ اسی طرح زلزلے کی صورت میں ملبے سے اموات کو روکنے کے لئے عمارتوں کے طرز تعمیر اور خام مال میں تبدیلی کی بہت بات کی گئی۔ مگر ابھی تک ان احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کم ہی نظر آتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے مطابق اسلام آباد سمیت پاکستان کے بیشتر بالائی علاقے فالٹ لائنز پر موجود ہیں۔ جہاں کسی بھی وقت بڑا زلزلہ آسکتا ہے۔ اس کی مثال 26 اکتوبر2015 کا زلزلہ بھی ہے۔ جسی کی شدت آٹھ اعشاریہ ایک تھی۔ جس کی وجہ سے سے پنجاب، خیبر پختون خوا اور کشمیر میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں اور ہزاروں مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے۔
زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لاہور کی متعدد عمارتوں میں دراڑِیں پڑ گئیں۔ اس زلزلے کے بعد ایک ماہ کے دوران کم و بیش 200 چھوٹے زلزلے اور آفٹرشاکس آئے۔ محکمہ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر غلام رسول چوہدری کے مطابق حالیہ دنوں میں تو زلزلوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ آنے والے دنوں میں مزید بڑی شدت والے زلزلے آسکتے ہیں۔ بحیرہ عرب میں ساحل مکران کے قریب سونامی بھی آسکتا ہے۔ جس سے پاکستان اور اومان کے کئی علاقے خطرے میں ہیں۔ پہلے80 فی صد سے زائد زلزلوں کا آغاز کوہ ہندوکش کے سلسلے سے ہوتا تھا لیکن اب زلزلے کے نئے مراکز ہزارہ اور کشمیر میں بھی پیدا ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ زلزلے تو آتے ہی رہیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سے ہونے والی تباہ کاریوں کو کیسے روکا جائے۔ اس وقت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پاکستان کے بڑے شہروں میں آسمان سے باتیں کرتی بلند و بالا عمارتیں عام ہیں۔ جن کی تعمیر میں کنکریٹ اور شیشے کا بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ زلزلے کی صورت میں یہی عمارتی مٹیریل مکینوں کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔جاپان، اٹلی اور دیگر ممالک جہاں زلزلے آتے ہی رہتے ہیں۔ وہاں اس کا حل موزوں تعمیراتی ٹیکنالوجی اور مٹیریل کے استعمال سے نکالا گیا ہے۔ جاپان اور میکسیکو میں اکثر عمارتوں میں ایسا تعمیراتی مٹیریل استعمال ہوتا ہے کہ وہ زلزلے کے دوران سانپ کی طرح لہراتی تو رہتی ہیں مگر گرتی نہیں۔ پاکستان میں بھی اگر کنکریٹ کی بجائے ہلکے وزن کا تعمیراتی خام مال استعمال کیا جائے تو زلزلے کی صورت میں عمارتوں تو گریں گی۔ مگر انسانی جانوں کا ضیاع بہت کم ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر حادثے کے بعد ٹی وی چینلز پر گفت و شنید کرنے کی بجائے واقعات سے پہلے ہی احتیاطی تدابیر کو عام کیا جائے۔

تاریخ کا تباہ کن زلزلہ ۔ ۔ کیا سبق سیکھا: Reviewed by on . آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی لیپا کا رہنے والا دلپذیر اعوان کبھی بھی آٹھ اکتوبر 2005 کے دن کو نہیں بھلا سکتا۔ وہ مظفر آباد میں اس دن صبح سویرے اپنی تنخواہ نکلوانے آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی لیپا کا رہنے والا دلپذیر اعوان کبھی بھی آٹھ اکتوبر 2005 کے دن کو نہیں بھلا سکتا۔ وہ مظفر آباد میں اس دن صبح سویرے اپنی تنخواہ نکلوانے Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top