جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » اضافی » ترقی یافتہ ممالک کی نسلیں بے راہ روی کا شکار:

ترقی یافتہ ممالک کی نسلیں بے راہ روی کا شکار:

آج کل کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں ہر انسان کی یہی کوشش ہے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے تحت اپنی زندگی بسر کرے۔ دنیا کے ترقی پزید ممالک میں مقیم افراد کو وہاں کے قوانین کے تحت بہترین آسائشیں اور سہولیات موجود ہیں۔ اس کے بر عکس کچھ الیسے ممالک بھی ہیں جہاں لوگ غربت اور مفلسی کا وقت گزار رہے ہیں۔اگر بات مغربی ممالک کی ہو تو تمام تر سہولتوں اور آسائشوں کے باوجود وہاں کے افراد ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ دوسروں سے سبقت لے جانا اور نتگ نظری ان کی فطرت میں شامل ہے۔ لیکن میری اس بات پر کئی لوگ اتفاق کرے گے کے ترقی کر جانے والی قوموں کی نسلیں آزای کو اپنی جیت سمجھ کر غلظ راستے پر بھٹک جاتیں ہیں اور اس کی واضح مثال آج کل مغربی ممالک میں دیکھنے میں آ رہی ہے۔ جہاں حالیہ چند ماہ میں دہشت گردی کے کئی ناخوشگوار واقعات ہو چکے ہیں۔ اسکول، شاپنگ سینٹر، نائٹ کلب وغیرہ میں فائرنگ کے واقعات میںاور تحقیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ان واقعات میں ٨٥ فیصد ان کے اپنے شہری ملوث پائے گئے ہیں کئی لوگ اپنی زندگیوں سے ساتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان تمام واقعات کے بعد پولیس اور دیگر اداروں کی تفتیش اور تحقیق کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ ان واقعات میں ٨٠ فیصد ان کے اپنے شہری ملوث ہیں اور وجہ ذہنی تناؤ اور آزادی حقوق کا غلط استعمال ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ سائنسی ایجادات محص انسان کی ندگی کو آسان بنانا تھا مگر ان ایجادات کا استعمال آنے والی نسلیں غلط اور دوسروں کو نقصان دینے کے لئیے کریں گئی یہ کسی کے بھی گہمو گمان میں بھی نا ہو گا۔

ترقی یافتہ ممالک کی نسلیں بے راہ روی کا شکار: Reviewed by on . آج کل کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں ہر انسان کی یہی کوشش ہے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے تحت اپنی زندگی بسر کرے۔ دنیا کے ترقی پزید ممالک میں مقیم افراد کو وہاں آج کل کے جدید اور ترقی یافتہ دور میں ہر انسان کی یہی کوشش ہے کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کے تحت اپنی زندگی بسر کرے۔ دنیا کے ترقی پزید ممالک میں مقیم افراد کو وہاں Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top