بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » ترکی کی تاریخ

ترکی کی تاریخ

ترکی کی تاریخ سندھ کی تاریخ کی طرح پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پتھروں کے دور سے لوگ آباد ہے۔ ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں ترکی کی تاریخ کانسی کے زمانہ سے شروع هوتی ہے۔
اس دور کو کانسی کا دو راس وجہ سے کہا جاتا تها کہ اس زمانے میں آلات اور برتنوں کا بڑا حصہ کانسی سے بنایا جاتا تھا۔اس دور میں حتیوں نے اناطولیہ میں قدم جمانے شروع کر دیے۔ یہ انڈو یورپین نسل کے کسان تھے۔ انہوں نے اناطولیہ کے علاقے میں ایک عظیم سلطنت قائم کی۔ ان کے قوانین معاصر تہذیبوں کی نسبت زیادہ انسان دوست تھے۔حتیوں کا مذہب مشرکانہ تھا جس میں وہ متعدد خداؤں کی پرستش کیا کرتے تھے۔ بادشاہ کو پجاریوں کا سربراہ مانا جاتا تھا۔ حتی سلطنت ۱۴۰۰ ق م کے لگ بھگ اپنے عروج کو پہنچی۔ آہستہ آہستہ اسے زوال آ گیا اور اس کی جگہ متعدد تہذیبوں نے لے لی۔
اس پورے عرصے میں ترکی کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم رہیں۔ مغرب کی جانب سے یہ یونانی اقوام کے زیر اثر رہا جبکہ مشرقی جانب سے یہ عراق کی قدیم سلطنتوں کے زیر اثر رہا۔ اس زمانے میں مغربی ترکی میں آئیونیا تہذیب، فرائ جیا تہذیب، اور ٹرائے کی تہذیب غالب رهی.
پهر سیدنا داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کے دور کا آغاز ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو نرم کر دیا تھا جس کے باعث انہوں نے لوہے کی وسیع سلطنت قائم کی۔ ان کے بیٹے سیدنا سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں لوہے کے علاوہ دیگر قسم کی صنعتوں کے غیر معمولی ترقی کی۔ ہواؤں کو مسخر کیا گیا۔ سمندر کے خزانوں کو تلاش کیا گیا۔ عظیم الشان عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ان کی سلطنت میں سائنسی ترقی کا یہ عالم تھا کہ یمن جیسے ترقی یافتہ ملک کی ملکہ بھی ان کے محل میں پہنچ کر خود کو دیہاتی دیہاتی سا محسوس کرنے لگی۔ یہ ترقی اسرائیل سے نکل کر دیگر قوموں تک بھی پہنچی۔
اس دور میں مغربی ترکی لڈیا کی سلطنت اور مشرقی ترکی ایران کی ہاخا منشی سلطنت کے زیر اثر آ گیا۔ ۳۳۶ ق م میں اس علاقے کو یونان کے سکندر نے فتح کر لیا مگر اس کے جانشین اتنی بڑی سلطنت کو سنبھال نہ سکے اور یہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس کے کچھ عرصے بعد رومیوں کو عروج نصیب ہوا اور ان کے فاتحین نے پورا اناطولیہ فتح کر کے اسے روم کا حصہ بنا دیا۔ ابتدا میں یہ ایک جمہوری حکومت تھی لیکن بعد میں یہ بادشاہت میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے ترکی کے علاوہ موجودہ شام، اردن ، فلسطین اور مصر پر قبضہ جما لیا۔ اسی دور میں سیدنا عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت ہوئی۔ آپ کے بعد آپ کے ماننے والوں کی بڑی تعداد نے ترکی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں دعوتی و تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں۔
رومی دور میں لگ بھگ اس پورے علاقے کی اکثریت عیسائی مذہب اختیار کر چکی تھی۔ ۳۳۰ء میں رومی شہنشاہ قسطنطین نے عیسائیت قبول کر کے اسے سرکاری مذہب قرار دیا۔ یہی وہ بادشاہ ہے جس نے موجودہ استنبول کے مقام پر عظیم شہر قسطنطنیہ بسانے کا حکم دیا جو اس کا دارلحکومت قرار پایا۔ اس سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا شہر تھا جو بازنطین کہلاتا تھا۔
ساتویں صدی کے دوران مسلمانوں نے شام اور مشرقی ترکی کو فتح کر لیا جس کے نتیجے میں رومی سلطنت صرف اناطولیہ کے مغربی علاقوں تک محدود ہو گئی۔ ۱۰۳۷ء میں اس علاقے میں طغرل بیگ نے سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ مشرقی اور وسطی اناطولیہ پر سلجوقوں اور مغربی ترکی پر رومنوں کی حکومت رہی۔ سلجوقی سلطنت کے زوال پر اس کی باقیات سے عثمانی ترکوں نے جنم لیا اور مشرقی ترکی پر اپنی حکومت قائم کر لی۔
مسلمانوں نے ابتدائی فتوحات ہی میں موجودہ ترکی کے مشرقی علاقوں کو اپنے زیر نگیں کر لیا تھا لیکن اناطولیہ کے وسطی علاقے نویں صدی میں سلجوقوں کی آمد تک مسلم ریاست نہ بن سکے۔ بلاد اسلامیہ پر چنگیز خان کی یلغار کے بعد ترکوں نے وسط ایشیاسے ہجرت کر کے اناطولیہ کو اپنا وطن بنایا۔ سلجوقیوں کے زوال کے بعد ترکی کے سیاسی منظر نامے پر عثمانی ابھرے جنہوں نے اسلامی تاریخ کی سب سے عظیم ریاست " سلطنت عثمانیہ" تشکیل دی۔ سلطنت عثمانیہ۶۳۹ سال تک قائم رہی اور سولهویں اور سترهویں صدی میں دنیا کی سب سے طاقتور سیاسی قوت تھی۔ عثمانیوں کی فتوحات ہی کے نتیجے میں اسلام وسط یورپ تک پہنچا اور مشرقی یورپ کا علاقہ عرصہ دراز تک مسلمانوں کے زیر نگیں رہا۔ زوال کے دور کے بعد سلطنت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیممیں جرمنیکا ساتھ دیا اور بالآخر شکست کھا کر خاتمے کا شکار ہو گئی۔

ترکی کی تاریخ Reviewed by on . ترکی کی تاریخ سندھ کی تاریخ کی طرح پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پتھروں کے دور سے لوگ آباد ہے۔ ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں ترکی کی تاریخ کانس ترکی کی تاریخ سندھ کی تاریخ کی طرح پرانی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہاں پتھروں کے دور سے لوگ آباد ہے۔ ترکی میں قبل از تاریخ کے زمانےکے آثار ملتے ہیں ترکی کی تاریخ کانس Rating:
scroll to top