جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » اضافی » تعلیم سے آگائی کا شعور بیدار کرنا

تعلیم سے آگائی کا شعور بیدار کرنا

تعلیم انسان (مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہ بات حضور اکرم نے اپنی امت کو تاکید کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ آج ہم چوداں سو سال بعد اس بات کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تعلیم ہر وقت کی اہم ضرورت رہی ہے۔ تعلیم خواں مرد حاصل کرے یا عورت سب کے لیے یکساں ہے اگر پاکستان کی بات کی جائے توپاکستان میںتعلیم کا شعور بہت محدود ہے۔صرف ٦٥ فیصد بچے اسکول جا پاتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ ہمارے ہاں اسکولوں کے اخراجات عریب آدہی کے پہچ سے دور ہوتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پچوں کو چھوٹی عمر سے ہی کام کرنے کا بوج ڈال دیا جاتا ہے تاکہ گھر کا گزر بسر ہو سکے جس کی وجہ سے وہ بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ دوسری اہم بات یہ کہ پاکستاں میں ٹرکیوں کی تعلیم پر کڑی تنقید کی جاتی ہے وہ بھی اس لیے کے ٹرکیوں پڑھ لیکھ کر علم کا شعور حاصل کریں گی ۔ یا پھر وہ علم حاصل کر کے اپنے حق کے لئے آواز بلند کریں گی۔ اس لئے ٹرکیوں کو تعلم حاصل کرنے اور علم کےذریعے اپنی آنے والی زندگی کی تعبیرحاصل کرنے سے محروم ہو جاتیں ہیں۔ یہ تمام تر مسائل کا دارومدار صرف بچیوں کے خاندان قصور وار ہوتے ہیں بلکہ اس میں قصور وار معاشرے کا ان کے ساتھ برتاؤ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کا تعلیمی ورثے میں چند ہی ادارے آ سکے تھے۔ حکومت کے استحکام اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی فنی، سائنسی اور تحقیقی اداروں میں اضافہ ہوتا گیا۔ تقسیم پاکستان اور اس کے بعد جود میں آنے والے چند اداروں کا ذکر ذیل میں کر رہی ہوں:۔

لاہور کا اورنٹیل کولج تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں پاکستان کے حصے میں آیا۔ یہ ادارہ 1872ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کی بنیاد انجمن پنجاب نے رکھی تھی‘ رفتہ رفتہ یہ ایک اعلی تحقیق کا بلند پایہ ادارہ بن گیا۔ آج یہ پاکستان کا نمایاں تحقیقی ادارہ ہے۔ اس ادارے کی بدولت پاکستان میں تحقیقی سرگرمیوں کو کافی فروغ حاصل ہوا ہے کاہم اور دیرینہ سلہ یہ بھی ہے کہ پاکستانکے تعلیمی نظام قیام پااکستانسے اب تک جوں کا توں ہے۔ تعلیم نظام میں کوئی اصاحات نہی نافذ ہوئئی اور نہ ہی تدوین نصاب میں کوئی خاطر خواں فرق پڑا عہدِ حاضر کا ایک المیہ تو یہ ہے کہ طلباءنصابی کتب کی طرف توجہ دینے سے گریزاں ہیں لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ نصابی کتابوں کی جگہ لینے والے ”نوٹس“ بھی علم کے ضیاع کا باعث بن رہے ہیں۔ وہ کتابیں جن میں قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کا ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے، ان کی تیاری بہت احتیاط کی متقاضی ہوتی ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر حکومت نے ہر بڑے شہر میں رجسٹرڈ مصححین مقرّر کیے ہیں۔ اشاعتی ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ مذکورہ کتب کے مسوّدوں پر نظرِ ثانی کروائیں اور متعلّقہ مصححین حضرات سے نسخہ جات کی صحت کی تصدیق کروائیں لیکن ”شورٹ کٹ“ علم کا سودا بیچنے والے ناعاقبت اندیش پبلشرز اس اہم ذمّہ داری سے مسلسل غفلت برت رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جو چاہو، جس طرح چاہو، چھاپ دو اور بانٹنا شروع کردو۔ اس ناگفتہ بہ صورتحال کے باوجود ہم درخشاں مستقبل کے خواب دیکھتے نہیں تھکتے۔

تعلیمی اداروں کے نصاب کی تیاری کے دوران ماہرین کو بہت مشقّت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ وہ معاشرے اور ملک کی سماجی، معاشی، مذہبی اور سیاسی ضروریات مقرّرہ نصاب کو دیانتداری سے پڑھ کر نوجوان ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکیں اور ان میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو تاکہ ملک کی ترقی اور کو مدِّنظر رکھتے ہوئے ایک نصاب طے کرتے ہیں تاکہ اس وقار میں اضافہ ہو، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم علم کے گنجِ گراں مایہ کو نظر انداز کرکے اختصار پسندی کی لت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

مقرّرہ نصابی کتب سے بیگانگی نا صرف یہ کہ ہمارا ذاتی نقصان ہے بلکہ یہ پوری قوم سے خیانت کے مترادف ہے کیونکہ ”شورٹ کٹ کلچر“ کی پیروی سے ڈگری بردار (علم ودانش سے تہی دست) تو تھوک کے حساب سے پیدا ہوں گے مگر اہلِ علم اور ماہرین کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔ مستقبل میں یہی ڈگری بردار ملک کے اربابِ بست وکشاد قرار پائیں گے اور قوم کی ”خدمت“ کریں گے جیسا کہ گذشتہ تین دہائیوں سے ہماری قوم کی ”خدمت“ کی جارہی ہے۔

ان امدادی کتابچوں پر تکیہ کرنا طلباءمیں علمی صلاحیتوں کے نقصان کا سبب بن رہا ہے۔ ان کی وجہ سے طلباءاور اساتذہ کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں اور ان کتابچوں کے شائع ہونے کے بعد تعلیمی میدان میں کوئی نمایاں ترقی نہیں ہوئی بلکہ زوال آیا ہے از اشاعت پروف ریڈنگ کروانے کا پابند بنائیں اور خلاف ورزی کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی اشاعتی ادارہ ا۔ اگر کچھ دیر کیلئے ان نوٹس کے وجود کو طلباءکے لئے ناگزیر مان بھی لیا جائے تو بھی ان کی تصحیح سے قطع نظر نہیں کیا جاسکتا۔ اربابِ نظر اور نگران اداروں کو چاہیے ان شائع کنندگان کو مذکورہ امدادی کتب کے مسوّدوں کی قبل س نوع کی علمی خیانت کا ارتکاب نہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلباءمیں نصابی کتب کی اہمیت کا شعور بیدار کریں اور ان امدادی کتابچوں پر بھروسہ کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کریں۔
۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں تعلیم کا شعور پیدا کرنے کے لئے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا جائے، تعلیمی اداروں میں فیسز طلبات کی حیثیت کے مطابق رکھی جائیں، پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک تعلیم مفت دی جائے اور تعلیمی نصاب کو جدید رجحانات اور اھم تدریسی تقاضوں کو ذہین میں رکھ کر ازسر نو تشکیل دیا جائے۔ یہ وہ تماماھم عوامل ہیں جس کے ذرلیعے ممکنہ طور پر معاشرے میں تعلیم کے شعور سے آگاہی میں ممکنہ طور پر مدد مل سکتں ہے اور تعلیم کے شعور کے ذریے پاکستان سے غربت، جہالت، بےروزگاری وغیرہجیسےمسائل سے کیسی حد تک روکنے میں ممد مل سکتی ہے۔

تعلیم سے آگائی کا شعور بیدار کرنا Reviewed by on . تعلیم انسان (مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہ بات حضور اکرم نے اپنی امت کو تاکید کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ آج ہم چوداں سو سال بعد اس بات کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تعل تعلیم انسان (مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہ بات حضور اکرم نے اپنی امت کو تاکید کرتے ہوئے فرمائی تھی۔ آج ہم چوداں سو سال بعد اس بات کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تعل Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top