بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اضافی » جناح ریسرچ اسٹیشن انٹارکٹیکا کا قیام

جناح ریسرچ اسٹیشن انٹارکٹیکا کا قیام

براعظم انٹارکٹیکا پر جناح ریسرچ اسٹیشن کا قیام اورپاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا جانا..وہ واقعات ہیں جنہیں‌ہماری سائنسی تحقیق کی تاریخ میں‌شائد ہمیشہ یاد رکھا جائے گا.
برف کی سرزمین انٹارکٹیکاکو دنیا کا سب سے پرسکون اور صاف ستھرا براعظم سمجھا جاتا ہے. شائد اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں بنی نوع انسان کے قدم حال ہی میں‌پہنچے ہیں. انسانوں‌کی پہنچ سے محفوظ رہنے کے باعث انٹارکٹیکا آلودگی سے پاک ہے. قطب جنوبی کے پاس سائنسی تحقیق کا آغاز کرنے کی کئی وجوہات تھیں. یہاں سمندری زندگی پر عمدہ تحقیق ممکن ہے.

قطب جنوبی کے پاس اوزون کی سطح میں وہ سوراخ بھی پایا جاتا ہے جس نے سائنس دانوں‌کو پریشان کر رکھا ہے. گرین ہائوس افیکٹ کے بارے میں‌بھی تحقیق یہاں‌بہتر طور پر ہو سکتی ہے. لیکن پاکستان کی جانب سے اس شعبہ میں‌فوری پیش رفت کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ اگر اس وقت پاکستانی سائنسدان وہاں‌نہ پہنچے تو شائد ایک سنہری موقع گنوادیتے.

دراصل اب سے 56 سال قبل 1959 میں‌8، 9 ممالک کے مابین ایک معائدہ طے پایاتھا،جسے انٹارکٹک ٹریٹی کہا جاتا ہے. یہ معاہدہ ان ممالک کے مابین ہوا تھا جو اس وقت انٹارکٹیکا کے مختلف علاقوں پر قابض تھے یا ملکیت کے دعویدار تھے. اس معائدہ کی میعاد 1991 تک تھی اور یہی طے پایا تھا کہ جو ملک بھی ریسرچ کی عرض سے 1991 تک انٹارکٹیکا تک پہنچ جائے گا وہ یہاں‌کے معدنی و زمینی وسائل میں‌حصہ دار ٹھہرے گا.

پاکستانی سائنسدانوں کے انٹارکٹیکا پہنچ جانے اور وہاں‌"جناح انٹارکٹک ریسرچ اسٹیشن" قائم کر دینے سے پاکستان ان 35 ممالک میں‌شامل ہوگیا جنہیں‌نہ صرف وہاں‌تحقیقی سرگرمیا ں جاری رکھنے اور دیگر ممالک سے معلومات کا تبادلہ کرنے کا حق حاصل ہے ، بلکہ مستقبل میں‌وسائل کے کسی بھی ممکنہ بٹوارے کی صورت میں اپنا حق طلب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا.

EPSON scanner image

EPSON scanner image

پس منظر

پاکستانی مشن انٹارکٹیکا بھیجنے کا بنیادی آئیڈیا پاک بحریہ کے ایک آفیسر کے ذہن میں‌آیا تھاجو ایک اسٹاف کورس کر رہے تھے. ریسرچ کے دوران ان کو معلوم ہوا کہ اگرپاکستان 1991 سے پہلے انٹارکٹیکا چلا جائے تو یہ ملک کے لیے سود مند ثابت ہوگا. انہوں‌نے نیول ہیڈکوارٹرکو تجویز بھیجی کہ ریسرچ کے لئے منصوبہ بندی تو کی جائے ، مگر فوری طور پر ایک مہم انٹارکٹیکابھیج دی جائے تاکہ پاکستان بھی انٹارکٹیکا کلب میں شامل ہو جائے.

چیف آف نیول اسٹاف کو یہ تجویز پسند آئی اور ان کے توسط سے یہ تجویز وزیراعظم تک پہنچی جنہو ں نے اسے پسند کیا.بعد ازاں یہ مشن وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت شروع کرنے کی ہدایت کی گئی اس کی وجہ یہ تھی کہ انٹارکٹیک ٹریٹی کے تحت اس علاقے میں صرف سائنسی تحقیق کی جا سکتی ہے. فوجی مقاصد کے لئے جانا ممکن نہیں ہے.

مشن کی تیاریاں شروع ہوئیں

مشن کے لئے سرکاری فنڈز ملنے کے بعد تیاریاں‌شروع ہوئی، دن رات کام کیا گیا، اس مہم کے لئے پوری دنیا سے سامان خریدا گیا. قطب جنوبی مکمل طور پر برف سے ڈھکا براعظم ہے جسکا درجہ حرارت ہمیشہ منفی ڈگری پر رہتا ہے. ایسا بحری جہاز چارٹرڈ کیا گیا جو قطب جنوبی کے علاقے میں‌سفر کرنے اور برف کو توڑنے کی صلاحیت رکھا تھا.
بالآخر "کولمبیا لینڈ"نامی چارٹرڈ جہاز لے کر پاکستانی سائنسدانوں‌اور فوجی ماہرین کی ٹیم 12 دسمبر 1990 کو انٹارکٹیکا کی جانب روانہ ہوئی.

انٹارکٹیکاپر سبز ہلالی پرچم

اب یہ طے پایا جانا تھا کہ براعظم انٹارکٹیکا پر کس جگہ پڑائو کیا جائے . یہ تاریخی دن تھا جب سبز ہلالی پرچم انٹارکٹیکا پر لہرایا گیا. لیکن ایک پریشانی یوں‌پیش آئی کہ جگہ کا تعین کرنے میں‌دشواری ہو رہی تھی کہ کس جگہ اترا جائے کیونکہ نقشہ نہیں‌تھا.
جس طرح دنیا کے ہر خطے، براعظم اور ملکوں کے نقشے پوری دنیا میں مل جاتے ہیں، اس طرح انٹارکٹیکا کا نقشہ نہیں ملتا. کیوں‌کہ اس کا صحیح رقبہ اور جغرافیہ کسی کو معلوم ہی نہیں. بہر کیف جو ممالک پہلے پہنچے ہوئے تھے جاپان، امریکہ ، روس اور برطانیہ وغیرہ ان ماہرین سے کچھ نقشے مل سکے اور پھر تحقیق کے بعد تین چار جگہیں‌منتخب ہوئیں.

روشن مستقبل

اس طرح یہ پاکستان کا تاریخی مشن انٹارکٹیکا تک پہنچا، جہاں‌اب تین مرکز بن چکے ہیں، یہ مراکز زیادہ تر موسمی تبدیلیوں‌کا جائزہ لیتے ہیں. یہ مشن وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے زریعے چلایا جا رہا ہے.

پاکستان نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اوشیانوگرافی (لنک) کے تحت یہ مشن اپنے ڈیؤٹی سرانجام دے رہا ہے.

جناح ریسرچ اسٹیشن انٹارکٹیکا کا قیام Reviewed by on . براعظم انٹارکٹیکا پر جناح ریسرچ اسٹیشن کا قیام اورپاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا جانا..وہ واقعات ہیں جنہیں‌ہماری سائنسی تحقیق کی تاریخ میں‌شائد ہمیشہ یاد رکھا براعظم انٹارکٹیکا پر جناح ریسرچ اسٹیشن کا قیام اورپاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا جانا..وہ واقعات ہیں جنہیں‌ہماری سائنسی تحقیق کی تاریخ میں‌شائد ہمیشہ یاد رکھا Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top