ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تحقیق و جستجو » جنگلات قدرت کا خزانہ

جنگلات قدرت کا خزانہ

جنگلات کسی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیںاور ان کی افزائش کا انحصار مناسب آب و ہوا اور سطح زمین پر ہوتا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے وہاں کے کل رقبے میں سے 25 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن پاکستان جس کی کل آبادی کا بڑا پیشہ زراعت ہے اس کے باوجود درختوں کی شدید کمی سے دوچار ہے۔ پاکستان میں جنگلات کی ضرورت اور اہمیت کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا گیا ہے۔ حکومت نے جنگلات کی ترقی کے سلسلے میں ایک محکمہ جنگلات بھی قائم کر رکھا ہے جس کی طرف سے سال میں دوبارشجر کاری مہم کا آغازکیا جاتا ہے۔ اس مہم کے باوجور پاکستان میں جنگلات کا رقبہ صرف صفر اعشاریہ چار فیصد ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں جنگلات کی صورتحال کتنی حوصلہ شکن ہے۔
جنگلات قدرت کی طرف سے بنی نوح انسان کے لئے ایک انمو ل خزانہ ہیں۔ جنگلات کے دلفریب مناظر ہمیشہ سے ہی انسانوں کے لئے باعث کشش رہے ہیں۔ ملکی اور غیر ملکی لوگ ان مناظ کی طرف خود بخود کھچے چلے آتے ہیں۔ سیاح ان جنگلات کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لئے میلوں دور سے آتے ہیں جو کہ ملکی زرمبادلہ کا ذریعہ بھی ہے۔جنگلات بنی نوع انسان کو نہ صرف متعدد فوائد سے مالامال کرتے ہیں بلکہ یہ سیلاب سے بچاﺅ کی دیوار کا جانوروںکے لئے چراگاہوں کا بھی کام دیتے ہیں۔ جنگلات انسان کے لئے اس لئے بھی ضروری ہیں کیونکہ یہ اوکسیجن فراہم کرتے ہیں۔
صنعتیں کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جبکہ متعدد صنعتیں جیسے ربڑ، کھیلوں کا سامان، فرنیچر، پیسل سازی اورجہاز سازی چل ہی جنگلات کی لکڑی کی بدولت رہی ہیں۔ جنگلات کی وجہ سے پہاڑوں پر برف کا پگھلاﺅ آہستہ آہستہ ہوتا ہے جس سے سیلاب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ نیز یہ سیلاب کے پانی کے تیز ریلوں کی راہ میں حائل ہو کر ان کی رفتار سست کر دیتے ہیں جس سے زمین کا کٹاو اور جانی و مالی نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ان جنگلات سے حاصل شدہ لکڑی سے ایندھن اور تعمیری ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ متعدد ادویات جنگلات سے حاصل شدہ قیمتی جڑی بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہیں۔
ان سب فائدوں کے باوجود انسان جنگلات کو بڑی بے رحمی سے کاٹ رہا ہے جس سے اوکسیجن کی کمی ہورہی ہے اور ماحول کی آلودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک صحت مند درخت سالانہ چھ ٹن کا ربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کے علاوہ سات ٹن آکسیجن بھی خارج کرتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخت انسان کا سب سے بڑا دوست اور مددگار ہے، لیکن پاکستان سمیت براعظم ایشیا کے متعدد ممالک میں اس حقیقت سے آگاہی پیدا نہیں کی جاسکی اور اسی کم علمی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں جنگلات نہایت محدود علاقے میں پائے جاتے ہیں۔

مختلف اقسام کے حیونات اور پرندے قدرت کا حسین شاہکار ہیں۔ان حیونات اور پرندوں کی نشورنما اور ان کی اقسام میں اضافہ کے لئے جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔ جنگلات اور درخت میں جتنا زیادہ اضافہ کیا جائے اتنا ہی انسان کے لئے فائدہ ہے کیونکہ ان جنگلات کی تعداد جس قدر زیادہ ہو گی اسی قدر ان سے بنی ہوئی اشیاءسے مل کی قومی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ملک کی خوشحالی ہو گی۔کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں وہاں پر پیدا ہونے والے پھل بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پھلوں کی بیرون ملک فروخت ملک کو بہت سا زرمبادلہ فراہم کرتی ہے۔

جنگلی حیات پر خصوصی توجہ دینے والے ادارے ورلڈ وائلڈ فیڈریشن ( ڈبلیو ڈبلیو ایف) سے جاری ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے کچھ عرصہ پہلے یہ عہد کیا تھا کہ 2015ء تک جنگلات کا رقبہ ڈھائی فیصد سے بڑھا کر چھ فیصد کردیا جائے گا، تاہم اب تک ایساہوتا دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ تاحال اس عہد کو پورا کرنے کیلئے کوئی ایک قدم بھی نہیں اٹھایا گیا۔

درختوں کی بے دریغ کٹائی کا سب سے زیادہ نقصان زراعت کو پہنچتا ہے، کیونکہ درختوں کی کٹائی کے باعث ان کی جڑیں ختم ہوجاتی ہیں اور مٹی پر ان کی گرفت نہیں رہتی، جس سے دریاﺅں اور ندی نالوں کے کناروں پر لینڈ سلائیڈنگ بڑھ جاتی ہے اور کم از کم پچاس سال میں زراعت کے قابل ہونے والی مٹی بالآخر دریاں اور ندی نالوں کی نذر ہوجاتی ہے۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ جنگلات کے فروغ کے لئے موئثر اقدامات کرے ، ان کی کٹائی کی روک تھام کے لئے سخت قانون بنائے ۔ٹمبر مافیا کو درختوں کی اسمگلنگ سے روکے اور قدرتی حسن کو تباہی سے بچائے تاکہ تمام پاکستانی صاف اور شفاف ماحول میں سانس لے سکیں۔

جنگلات قدرت کا خزانہ Reviewed by on . جنگلات کسی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیںاور ان کی افزائش کا انحصار مناسب آب و ہوا اور سطح زمین پر ہوتا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی م جنگلات کسی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیںاور ان کی افزائش کا انحصار مناسب آب و ہوا اور سطح زمین پر ہوتا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ کسی بھی م Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top