ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » اضافی » جنگلات کا تحفظ وقت کی ضرورت

جنگلات کا تحفظ وقت کی ضرورت

کیا حکومت غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے جنگلات کی کمی کو پورا کر پائے گی؟ سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی نے اپریل 2010ء کے تیسرے ہفتے میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ نیشنل فورسٹ پروگرام پر عملدرآمد حکومت پاکستان کے پروگرام ویژرن 2030ء کیلئے ایک سنگ میل ہوگا لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ جنگلات کی کٹائی جوں کی توں ہو ہی رہی ہے اور نئے پودے بھی برائے نام لگائے جاتے ہیں۔ جنگلات میں کمی کی وجہ سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں بلکہ ملک کے پانی کے ذخائر میں بھی بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے توانائی کی پیداوار میں بھی کمی کا سامنا ہے۔
جنگلات کی حفاظت اور ان کے رقبے میں اضافہ کرنا پاکستان کی اب ضرورت بن چکا ہے۔ درجہ حرارت اور بارش کی مقدار اور اوقات میں جو ممکنہ تبدیلیاں آئیں گی ان کے نقصان دہ اثرات کو زائل کرنے کے لیے جنگلات کا موجودہ رقبہ کافی نہیں ہو گا اور جیسا کہ اب وہ وقت آچکا ہے اور پاکستان کے موسموں میں تبدیلی آچکی ہے۔
ملک میںجنگلات معاشرے کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی کے لئے بہت سود مند ہوتے ہیں۔ حکومت کو جنگلات کی کٹائی کوروکنے کیلئے متعلقہ سرکاری اداروں خصوصاً فورسٹ انتظامیہ کو مزید فعال بنانا پڑے گااور قومی سطح پر شجرکاری کو فروغ دینا ہو گاجیسا کہ گذشتہ برس پاکستان کی وزارتِ ماحولیات نے نیشنل بینک کی مالی مدد اور سندھ کے محکمہ جنگلات اور مقامی رضاکاروں کے تعاون سے کیٹی بندر کے ساحلی علاقے میں جنگلات میں اضافے کے لیے ایک دن میں چھ لاکھ کے لگ بھگ پودے لگا کر ایک دن کی شجر کاری میں بھارت کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا تھا۔ چنانچہ نئی نسلوں کو ایک صحت مند ماحول دینے کیلئے جنگلات کی حفاظت اور ان میں اضافہ کرنا ہوگا۔

جنگلات کا تحفظ وقت کی ضرورت Reviewed by on . کیا حکومت غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے جنگلات کی کمی کو پورا کر پائے گی؟ سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی نے اپریل 2010ء کے تیسرے ہفتے کیا حکومت غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے جنگلات کی کمی کو پورا کر پائے گی؟ سابق وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی نے اپریل 2010ء کے تیسرے ہفتے Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top