جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » اہم » جنگلات کی حفاظت میں پاکستان کا کردار

جنگلات کی حفاظت میں پاکستان کا کردار

ملک کی متوازن معیشت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بیس فیصد رقبے پر جنگلات ہوں۔ لیکن سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے کل رقبے کا صرف پانچ فیصد جنگلات پر مشتمل ہے جبکہ غیر سرکاری حلقوں کے مطابق پاکستان کے پاس صرف تین فیصد جنگلات باقی ہیں۔ ان میں سے بھی ہر سال قریباً اکتالیس ہزار ہیکٹر جنگل غائب ہو رہا ہے۔ اس میں آگ، کیڑے مکوڑوں اور نباتاتی بیماریوں کا قصور صرف چھ فیصد ہے، بقیہ 94 فیصد جنگل کی صفائی کے ذمہ دار کمرشل اور نون کمرشل، قانونی و غیر قانونی انسانی ہاتھ ہیں۔ جو جنگل بچ گیا ہے وہ کتنی تیزی سے غائب ہو رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ جنگلات کے خلاف ایک شکایت موصول ہونے پر ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو نے انکوائری کا حکم دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات کے ریکارڈکے مطابق 1992ء میں شیشم کے 80064 درخت تھے جن کی پیمائش 2 کروڑ 4 لاکھ 32 ہزار 863 مکعب فٹ تھی۔
ایشائی ترقیاتی بینک نے اب سے کوئی 15 سال پہلے بر اعظم ایشیا پر عالمی درجہ حرات میں اضافے اور اس کے ساتھ ساتھ آب و ہوا میں رونما ہو نے والی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں ایک مفصّل رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں آب و ہوا میں تبدیلیوں کے با عث پاکستان میں متاثر ہونے والے جن شعبوں کی خاص طور پرنشاندہی کی تھی ان میں اگر چہ سرِ فہرست زراعت تھی لیکن اسی کے ساتھ ساتھ ماہرین نے پاکستان میں جنگلات کی صورتِِ حال پر خاص طور سے تشویش کا اظہار کیا گیا تھااور پاکستان کو کچھ مشورے بھی دیے تھے کہ اسے اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا چاہئیے۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ ملک کے پورے رقبے کے پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ جبکہ موجود ان جنگلات کی حالت بھی کسی طور قابلِ اطمنان نہیں ہے۔
اس سے زیادہ اہم اور تشویش کی بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحول کے دوسرے کئی مسائل کی صورت میں جنگلات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کہ اگر جنگلات کا رقبہ، ملک کی آبادی اور رقبے کے تناسب سے موزوں ہوتو یہی جنگلات، ماحول کو درپیش کئی مسائل کا حل فراہم کرتے ہیں۔ مثلاً جنگلات ، فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی بڑھی ہوئی مقدار کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگلات بہت زیاد ہ یا بہت کم بارش کے اثرات میں اعتدال پیدا کرتے ہیں۔اور پھر یہ جنگلات ہی ہیں جو قدرتی آبی راستوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جو توا نائی کے حصول کا بھی ایک ذریعہ ہیں اور زمیں بردگی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ ایشیائی بینک نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی تھی کہ پاکستان میں جنگلات کی شدید کمی اور جنگلات کے قدرتی وسائل پر آبادی کے بہت زیادہ دبائو کی وجہ سے ملک ان فائدوں سے یا تو محروم ہوچکا ہے یا مستقبل میں محروم ہوجائے گا۔لہذا جنگلات کی حفاظت اور ان کے رقبے میں اضافہ کرنا پاکستان کی اب ضرورت بن چکا ہے۔ درجہ حرارت اور بارش کی مقدار اور اوقات میں جو ممکنہ تبدیلیاں آئیں گی ان کے نقصان دہ اثرات کو زائل کرنے کے لیے جنگلات کا موجودہ رقبہ کافی نہیں ہو گا اور جیسا کہ اب وہ وقت آچکا ہے اور پاکستان کے موسموں میں تبدیلی آچکی ہے۔
محکمہ جنگلات پنجاب کے ایک ریٹائرڈ فارسٹ آفیسر کا کہنا ہے کہ پنجاب میں نہروں اور سڑکوں پر لگائے گئے شیشم اور کیکر کے درخت محکمہ انہار اور دیگر محکموں کی ملی بھگت سے یا تو چوری کر لئے گئے ہیں یا اونے پونے داموں میں فروخت کر دیئے گئے ہیں۔ اب پنجاب کی بیشتر نہروں پر کوئی درخت نظر نہیں آتاجبکہ سڑکوں پر بھی نہ ہونے کے برابر درخت ہیں اور اس میں نہ صرف محکمہ انہار بلکہ دیگر محکمہ جات مثلاً محکمہ جنگلات، محکمہ شاہرات، محکمہ مال وغیرہ تمام قصور وار ہیں اور اس سلسلے میں حکومت کی کوئی پلاننگ نظر نہیںآتی۔حکومت کوہنگامی بنیادوں پر نہروں اور سڑکوںپر ازسر نوشجر کاری کی پلاننگ کرنی چاہیے جبکہ کسانوں اور دیہی عوام میں شعور اجاگر کیا جائے کہ جہاں تک ممکن ہو سکے درخت لگائیں اور ان درختوں کا سرکاری ریکارڈ بھی رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ ایسے درخت لگائے جائیں جو زیادہ تر فرنیچر میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً شیشم، کیکر وغیرہ کیونکہ ان ایماندارانہ فروخت حکومت کو بہت آمدن ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک لکڑی کی سالانہ کھپت تقریباً ۳۴ ملین کیوبک میٹر ہے جبکہ جنگلات کی سالانہ افزائش چودا اعشاریہ چار ملین کیوبک میٹر ہے۔ اس طرح پاکستان کو سالانہ تقریباً 29 ملین کیوبک میٹر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ 1990ءسے 2000ء تک پاکستان میں جنگلات کا اوسطاً 41100 ہیکٹرز رقبہ سالانہ کم ہوا ہے۔ 2000ء سے 2005ء کے دوران کٹائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوا۔ اس طرح 1990ء سے 2005ء تک پاکستان میں تقریباً چوبیس اعشاریہ سات فیصد مزید جنگلات کا رقبہ ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت پاکستان اور دیگر صوبوں نے جنگلات کی ترقی کیلئے نجی شعبے کے تعاون سے جو پروگرام شروع کیے ہیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ محکمہ جنگلات کے افسران اب اپنی من مانیاں نہیں کر سکیں گے کم از کم غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیں ان پروگراموں کو مانیٹر کرے گی جس سے بد عنوانیوں میں کمی واقعہ ہو گی۔

جنگلات کی حفاظت میں پاکستان کا کردار Reviewed by on . ملک کی متوازن معیشت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بیس فیصد رقبے پر جنگلات ہوں۔ لیکن سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے کل رقبے کا صرف پانچ فیصد جنگلات پر مشتمل ہ ملک کی متوازن معیشت کے لئے ضروری ہے کہ اس کے بیس فیصد رقبے پر جنگلات ہوں۔ لیکن سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کے کل رقبے کا صرف پانچ فیصد جنگلات پر مشتمل ہ Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top