جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » جنگ آزادی:مئی 1857

جنگ آزادی:مئی 1857

First-War-of-Independence-May-1857-320x267تحریک آزادی کے متعلق سکھ ریاستوں کا رویہ انتہائی اہم تھا اگر وہ برطانیہ کے ساتھ تعاون اور مدد کو ترجیح نہ دیتے تو تحریک کا رخ اور شدت بالکل مختلف ہو سکتی تھی۔ اگر پنجاب میں مواصلات کیلئے راستے کھلے نہ ہوتے اور Phulian سرداروں کی جانب سے “خاص خدمات” انجام نہ دی جاتیں تو برطانیہ دہلی پر دوبارہ قبضہ نہیں کر سکتا تھا۔ دہلی کی انقلابی حکومت سکھ ریاستوں کے علاقوں خاص کر پٹیالہ کی بنیادی اہمیت کا پہلے ہی سے ادراک کرچکی تھی 15 مئی1857 تک بادشاہ، پٹیالہ کے مہاراجہ کو فرمان بھیج چکا تھا اور اسکے بعد کئی مزید پیغا مات بھی روانہ کییگئے کیونکہ دہلی اس مدد سے مکمل آگاہ تھا جو برطانیہ ان سرداروں سے حاصل کررہا تھا۔

پٹیالہ، جھنڈ اور دیگر سکھ ریاستوں کا تعاون حاصل ہوچکا تھا نیز میروت سے ضروری اطلاعات بھی موصول ہوگئیں چنانچہ برطانیہ نے دہلی کی طرف بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ جنرل آنسن نے کارنال کے مقام پر اپنی فوج اکٹھی کرنے، 5 جون کو باغ پت میں داخل ہونے اور وہاں جنرل ہیوٹ کے انتظار کا فیصلہ کیا۔ آنسن 27 مئی کو ہیضہ کے باعث فوت ہوگیا اور اسکی جگہ میجر جنرل سر ہنری برنارڈ نے سنبھالی۔ برنارڈ نے انتہائی غضب ناک ہوتے ہوئے ان تمام گاں کو تباہ کردیا جنہوں نے دہلی سے فرار ہونے والے یورپی لوگوں سے برا سلوک کیا تھا۔ 30مئی کو وہ کرنال سے دہلی روانہ ہوئے اور 5جون کو علی پور (دہلی سے دس میل دور) پہنچ کر محاصرے والی ٹرین کی آ مد کا انتظار کرنے لگے۔

جنگ آزادی:مئی 1857 Reviewed by on . تحریک آزادی کے متعلق سکھ ریاستوں کا رویہ انتہائی اہم تھا اگر وہ برطانیہ کے ساتھ تعاون اور مدد کو ترجیح نہ دیتے تو تحریک کا رخ اور شدت بالکل مختلف ہو سکتی تھی۔ ا تحریک آزادی کے متعلق سکھ ریاستوں کا رویہ انتہائی اہم تھا اگر وہ برطانیہ کے ساتھ تعاون اور مدد کو ترجیح نہ دیتے تو تحریک کا رخ اور شدت بالکل مختلف ہو سکتی تھی۔ ا Rating:
scroll to top