بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اہم » خدا کی غذا

خدا کی غذا

چاکلیٹ ایک ایسی چیز ہے جو بچے بڑے ہر کسی کی پسندیدہ ہوتی ہے۔ مگر یہ بنتی کیسے ہیں ؟ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ تو پھر اس سے آپ کو ایک دلچسپ واقعہ بتاتی هوں بچپن میں میری آنٹی نے مجھے کہا کہ چاکلیٹ مرغی کی ہڈیوں سے بنتی ہے اور میں نے یقین کر لیا۔ آپ سوچ رہے هوگے کہ انھوں نے مجھ سے مذاق کیا تها تو یہ غلط ہے کیوں کہ انھیں خود بھی یہی لگتا تھا۔
ہمارے یہاں زیاہ تر لوگ جانتے ہی نہیں کہ یہ چاکلیٹ جسے هم دو منٹ میں کھا جاتے ہیں کون کون سے مراحل سے گزر کے ہمارے پاس آتی ہیں۔ تو پھر آج ان لوگوں کو خراج دینے کے لیے جو اتنی لذیذ چیز ہم تک پہنچاتے ہیں ، چاکلیٹ درختوں سے اتر کر ہم تک کیسے پہنچتی ہے، اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔
ایک درخت کو آٹھارویں صدی میں کوکوا درخت یا ٹری کا نام دیا گیا۔ اس کانام ایک یونانی نام سے لیا گیا جو" تھیوبروما کوکوا" ہے یعنی" خدا کی غذا"۔
یه درخت عام طور پر افریقہ، اور جنوبی امریکہ کے جنگلات( رین فاریسٹ) میں پائے جاتے ہیں ۔ انڈونیشیا اور شمالی امریکہ میں بھی پائے جاتے ہیں مگر وہ ذائقہ کے اعتبار سے کم تر ہوتے ہیں۔ اس درخت کے پتے ۲۵ س م بڑے هوتے ہیں اور اس پر زرد رنگ کے پھول اُ گتے ہیں جو بعد میں پھل پیدا کرتے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اسکے پھل شاخوں کےبجائے تنے پر اُ گتے ہیں۔
ابتدائی مراحل میں ان درختوں کو سورج کی شعاعوں اور تیز ہوائوں سے بچانے کے لیے سائے کی ضرورت ہوتی ہیں۔ اس لیے جنوبی امریکہ اور مرکزی امریکہ میں اس کے لیے دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس درخت کی قلمیں دوسرے گھنے درختوں کے سائے میں اگائی جاتی ہیں دوسرا یہ کہ یہ اور ناریل کے درخت ساتھ ساتھ اگائے جاتے ہیں۔
تین سے چار سال کی عمر میں یہ پھل دینےکے لائق ہوجاتے ہیں۔ ایک درخت ۲۰ سے ۳۰ پھل سال بھر دیتا هے جو پورے سال کی کاشت هوتی ہے یعنی ایک درخت ۴۵۰ گرام چاکلیٹ ایک سال میں ہمیں دیتا هے۔ اب آپ کو اندازه ہورھا هوگا که چاکلیٹ اتنی مہنگی کیوں ہوتی ہیں؟
اس کا پھل سنہرے رنگ کا ہوتا ہے. ایک پھل کی لمبائی ۲۵ س م اور وزن ۵۰۰ گرام هوتا ہے۔ ہر پھل میں بیس سے چالیس کوکوا بینس یعنی پھلیوں کی طرح کے بیچ ہوتے ہیں۔ جوکہ میٹھے گودے میں قید ہوتے ہیں۔ وہ پھلیاں یا کوکوا بینس چاکلیٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

No title(83)
ان چاکلیٹ بینس کی فصل کاٹنا بہت محنت طلب کام ہے۔ افریقہ میں عام طور پر پورا گھرانہ اور پاس پڑوس والے مل کے یہ کام کرتے ہیں۔ پھلوں کو ایک بڑی سی ٹوکری میں جمع کیا جاتا ہے۔ اور اس کے بیچ الگ کیے جاتے ہیں۔ یہ کام ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ پھر ان نرم بیچوں کو سکھا کر چاکلیٹ بنانے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
پھر اس کے گودے کو بڑی بڑی ٹوکریوں میں کیلے کے پتوں سے ڈھانپ کر فرمینٹیشن کا عمل کیا جاتا ہے ۔ اس عمل میں ایک ہفتہ یا چند دن لگتے ہیں۔ اس کے بعد گیلی پھلیوں کو سکھایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کو فیکٹری پہنچایا جاتا ہے ۔ وهاں بیچ کے اندر سے گودا الگ کر کے ان سب کو ایک بڑے سے اوون میں ۱۰۵ سے ۱۲۰ ڈگری کے درمیان روسٹ کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے بعد اسے گرائنڈ کر کے کوکو پائوڈڑ تیار کیا جاتا ہے۔ جوکہ کیک اور دوسری چاکلیٹ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے

خدا کی غذا Reviewed by on . چاکلیٹ ایک ایسی چیز ہے جو بچے بڑے ہر کسی کی پسندیدہ ہوتی ہے۔ مگر یہ بنتی کیسے ہیں ؟ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ تو پھر اس سے آپ کو ایک دلچسپ واقعہ بتاتی هوں بچپن میں چاکلیٹ ایک ایسی چیز ہے جو بچے بڑے ہر کسی کی پسندیدہ ہوتی ہے۔ مگر یہ بنتی کیسے ہیں ؟ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ تو پھر اس سے آپ کو ایک دلچسپ واقعہ بتاتی هوں بچپن میں Rating:
scroll to top