جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » سیر وسیاحت » دبئی ہوائی اڈہ

دبئی ہوائی اڈہ

دبئی ہوائی اڈہ جسے عربی میں مطار دبي الدولي کہا جاتا ہے۔ دبئی ہوائی اڈہ، دبئی اور درمیانی مشرق کا اہم ہوائی اڈہ ہے۔
۶۴ فیصد ہوائی ٹریفک کے ساتھ یہ ہوائی اڈہ معاملہ کرتا ہے۔ دبئی کا بین الاقوامی ہواء ی اڈہ ۷۲۰۰ ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔۲۰۱۴ کے مطابق یہ دنیا کا مصروف ترین ہواء اڈہ ہے
مختصر تاریخ
جولائی ۱۹۳۷ میں دبئی کی پہلی فلائینگ بوٹ جوکہ مشرق میں کراچی اور مغرب میں برطانیہ تک سفر کرتی تهی۔۱۹۳۸ تک ان کی فلائینگ بوٹس کی تعداد ۴ هوگئی تھی۔ ۱۹۴۰ میں یہ بریٹیش اور سیس ائیروے کارپوریشن کے ذریعے عمل میں لائی گئی۔
۲۰۱۰ اکتوبر میں اس کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی ۔اور اس وقت اس کے مسافروں کی تعداد ۴۰۵ ملین تک سالانہ ہوگئی تھی۔ ۱۹۶۵ میں اس کی ابتدائی تعمیر کی شروعات ہوئی۔اس وقت یہ ۱۸۰۰ میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ پھر جیسے جیسے ترقی ہوتی گئی مسافروں کی تعداد بڑھتی گئی تو اس کا رقبہ پھیلانے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کا رقبہ پھیلتا گیا۔
خدمات
دبئی ہوائی اڈہ پر مسافروں کے لیے تین ٹرمینل ہیں ۔ یہ تینوں ٹرمینل ۸۰ ملین مسافروں کے ساتھ سالانہ معاملہ کرتے ہیں۔ ٹرمینل ۱ اور ۳ بین الاقوامی مسافروں کی خدمت کرتے ہیں جبکہ ۲ مقامی اور ایکونومی اور برصغیر سے آنے والے مسافروں کے ساتھ۔
ٹرمینل ۱ ایک زمین دوز اڈہ ہے اور اس میں تقریباً ۲۲ لاکھ مسافروں کی گنجائش ہے۔ یہاں پر کیفے، ریسٹورنٹ اور فائو سٹار ہوٹل اور شاپنگ کی سہولیات ہے۔
هوائی اڈے کی عمارت میں بزنس کلاس لائونج ، ۱۸۰ چیک ان کائونٹر اور ۲۶۰۰ کار پارکنگ کی سہولیات ہیں۔ دوکانیں یہاں ۱۱۰۰۰ میٹر کے رقبے پر پهیلی ہوئی ہیں۔
وجه شہرت
اس کی شہرت دنیا بهرمیں یہاں کے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس،اور ہوٹلز کی وجہ سے ہیں ۔
بین الاقوامی درجه بندی
یہ ہوائی اڈہ رقبے کے حساب سے دنیا کے دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

دبئی ہوائی اڈہ Reviewed by on . دبئی ہوائی اڈہ جسے عربی میں مطار دبي الدولي کہا جاتا ہے۔ دبئی ہوائی اڈہ، دبئی اور درمیانی مشرق کا اہم ہوائی اڈہ ہے۔ ۶۴ فیصد ہوائی ٹریفک کے ساتھ یہ ہوائی اڈہ معا دبئی ہوائی اڈہ جسے عربی میں مطار دبي الدولي کہا جاتا ہے۔ دبئی ہوائی اڈہ، دبئی اور درمیانی مشرق کا اہم ہوائی اڈہ ہے۔ ۶۴ فیصد ہوائی ٹریفک کے ساتھ یہ ہوائی اڈہ معا Rating:
scroll to top