پیر , 24 جولائی 2017

Home » تحقیق و جستجو » راجہ گدھ

راجہ گدھ

ایک سال پہلے میں نے اس ناول کی شہرت سے مجبور ہو کر یہ ناول پڑھا تھا، کیونکہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر اس ناول میں ایسا کیا ہے جو اس کا اتنا چرچہ عام ہے۔ تو جب پڑها تو اندازہ ہوا کہ اس کا کس وجہ سے آخر اتنا چرچہءِ عام ہے۔ تو چلیں آج آپ کو بھی بتاتے ہے کہ اس کا چرچہ کیوں عام ہے۔

Raja-Gidh
یہ ناول بانو قدسیہ نے لکھا ہے اور اس کو سنگِ میل پبلیشر نے شائع کیا ہے۔ اور یہ ۱۹۸۱ میں قارئین کے لیے منظرِ عام پر آیا تھا۔
کہانی
یہ کہانی قیوم کے گرد گھومتی ہے جو کہ اپنے کالج میں ایک لڑکی سیمی سے محبت کرتا ہے۔ جبکہ سیمی کی محبت کا محور ایک کشمیری لڑکا آفتاب ہوتا ہے۔ بعد میں آفتاب سیمی کو چھوڑ کر دوسری لڑکی سے شای کرلیتا ہے۔ جس سے سیمی ٹوٹ جاتی ہے ایسے میں قیوم اسے واپس لانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر اسے انذازہ ہوتا ہے کہ وه کتنی آگے نکل گئی ہے۔ اس کے علاوه بھی قیوم کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھائو آتے ہیں جوکہ اسے زندگی کے مختلف رنگوں سے روشناس کرواتے ہیں۔
تبصرہ و تنقید
یہ ناول لاہور کی ثقافت ، وہاں کے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ راجہ گدھ کا مطلب ہے گدھ کا راج ، اس ناول میں معاشرے کے ایسے لوگوں اور ایسے پہلوئوں سے پردہ اٹھایا گیا هے جو سچ مچ ایک گدھ کا راج ہی بنے ہوئے ہیں ۔ جو معاشرے اور مذہب کی حدود سے نکل کر حلال چھوڑ کر مردار کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں اور اس بات کا انھیں احساس بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کہانی کی منظر کشی بہت خوبصورت انداز سے کی ہوئی ہے۔ کہانی پڑھتے ہوئے انسان اسی منظر میں ایسا ڈوب جاتا ہے کہ اسی معاشرے کا حصہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
کچھ مصنفہ کے بارے میں
کچھ لوگوں نے راجہ گدھ کو پڑھ کر تبصرہ کیا که یہ ایسا لگتا ہے کہ بانو قدسیہ کے بجائے اشفاق احمد نے لکھا ہے۔ مگر اشفاق احمد نے اس بات کا بہت تحمل سے جواب دیا ہے کہ یہ شاہکار بانو قدسیہ جیسی عورت کا ہی ہے جو گھر گرہستی کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ اپنے قلم کو بھی قائم رکھتی ہے۔
بانو قدسیہ کہتی هے کہ ایک بار ان کے گھر ایک ہندو بچہ ملازم ہوا اور اس نے ان سے پوچھا که دینِ اسلام میں ایسا کیا انوکھا ہے جو دوسرے مذاہب میں نہیں؟ بانو قدسیہ نے جواب دیا کہ اچھی چیزوں کی طرف بلانا اور برائی سے روکنا تو اس لڑکے نے کہا کہ اس بات کی تو ہر مذہب دعوت دیتا ہے۔ تب انھوں نے سوچا اور اس بات کا نتیجہ نکالا کہ کہ اسلام میں حرام حلال کی منطق ایک ایسی چیز ہے جو کسی اور مذہب میں اتنی نہیں پائی جاتی اور اسی بات کو موضوع بنا کر انھوں نے راجہ گدھ کو لکھا تھا۔
بے شک یہ ناول اردو ادب میں ایک شاہکار ہے۔ اردو ادب سے لگائو رکھنے والے ہر انسان کو اسے ایک بار تو ضرور پڑھنا چاہیے۔

راجہ گدھ Reviewed by on . ایک سال پہلے میں نے اس ناول کی شہرت سے مجبور ہو کر یہ ناول پڑھا تھا، کیونکہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر اس ناول میں ایسا کیا ہے جو اس کا اتنا چرچہ عام ہے۔ تو جب ایک سال پہلے میں نے اس ناول کی شہرت سے مجبور ہو کر یہ ناول پڑھا تھا، کیونکہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ آخر اس ناول میں ایسا کیا ہے جو اس کا اتنا چرچہ عام ہے۔ تو جب Rating: 0
scroll to top