پیر , 23 اکتوبر 2017

Home » اہم » روزیٹا کے فیلے ربوٹ نے دمدار ستارے پر قدم جما لئے

روزیٹا کے فیلے ربوٹ نے دمدار ستارے پر قدم جما لئے

دمدار ستارہ(سیارچہ)جس کا سائنسی نام67P رکھا گیاہے، پرروزیٹاکےپہلےخلائی تحقیقی ربوٹ فلائی Philae نے قدم جما کر تاریخی کامیابی حاصل کر لی ۔

تفصیلات کے مطابق یورپین سپیس ایجنسی کے خلائی جہاز روزیٹا Rosetta satellite جو کہ خلا میں اپنے ریسرچ مشن پر مشغول ہے نے12 نومبر 2014 کو اپنا پہلا ربوٹ جسے فیلے 67Pکا نام دیا گے ہے ایک دمدار ستار ے پر اتار کر خلائی سائنس میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

خیال رہے یورپین سپیس ایجنسی کی طرف سے روزیٹا خلائی جہاز دس سال کے مسلسل سفر کے بعد اس سیارچے تک پہنچنے میں کامیاب ہواہے۔یہ سیارچہ زمین سے 50 کروڑکلومیٹر دوری پر ہے۔

روزیٹا کی اس روبوٹ نےتصاویری ڈیٹا بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دمدار ستارے پر اس تحقیق سے نظام شمسی کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔اس خلائی مشن کا مقصد ساڑھے چار ارب سال قبل نظام شمسی کی تشکیل، زندگی کی شروعات اور پانی بننے کی وجوہات تلاش کرنا۔ سائنس دار آخر جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے اس نظام کی شروعات کیسے اور کیوں کر ہوئی ؟ سائنس دانوں کو امید ہے کہ دمدار ستارے کی سطح کے تجزیے سے اس عمل میں مدد ملے گی۔

یہ دمدار ستارے اس وقت سے سورج کےگرد گردش کر رہے ہیں جب سے نظامِ شمسی وجود میں آیا ہے۔واشنگ مشین جتنا بڑا یہ روبوٹ بدھ کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق آٹھ بج کر 35 منٹ پر روزیٹا نامی خلائی جہاز سے 67 پی/چوریوموف جیراسیمینکو نامی دمدار ستارے کی طرف چھوڑا گیا۔

کیا آپ کسی گھومتے ہوئے فٹبال پر نشانا لگا سکتے ہیں؟، اسی طرح کسی دمدار ستارے پر ایک ربوٹ گاڑی کی لینڈنگ یعنی بخوبی اتارنا بھی ایک بڑی کامیابی تھی۔ کیوں کہ دمدار ستارابڑی تیزی سے مسلسل گھومتا رہتا ہے۔

روزیٹا سے فیلائی لیںڈنگ کرتے ہوئے

روزیٹا سے فیلائی ربوٹ دمدار ستارے پرلیںڈنگ کرتے ہوئے

یورپی خلائی ادارے کے سربراہ جان جیکوئس ڈورڈین نے کہا کہ ایک دہائی طویل سفر کے بعد دمدار ستارے پر روبوٹ کا اترنا انسانیت کے لیے ایک ’بڑا قدم‘ ہے۔اور یہ نہ صرف یورپی خلائی ادارے کے لیے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک عظیم دن ہے۔

دمدار ستارے(سیارچے) ہوتے کیا ہیں؟

قدرت نے خلا بہت ہی وسیع بنایا ہے، اس وسیع و عریض کائنات میں ایک اہم جزو دمدار ستارا ہے۔دمدار ستارے کی تعریف یہ ہے کہ ایسے اجرام فلکی جو سورج کے گرد اپنے مدار پر گردش کرتے ہوں عموما ان کا ایک بادل جیسا روشن سر ہوتا ہے جس میں ایک یا زیادہ روشن ذرات پائے جاتے ہیں جن میں سے سورج کی روشنی کے اشعاعی دبائو (Radiation Pressure) کی وجہ سے مادی ذرات خارج ہوتے ہیں جو جھاڑو کی طرح ایک دم کی شکل اختیار لیتے ہیں۔ چند دم دار ستارے سورج کے گرد مختصر وقت میں چکر لگا لتے ہیں۔

دم کی لمبائی بغض اوقات دس کروڑ میل سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جن دم دار ستاروں کا علم ہو چکا ان کی گردشی مدت 3۔3 سے لی کر کئی ہزار سال تک ہوتی ہے ۔ وقتا فوقتا نمودار ہونے والے دم دار ستارے تاروں کا باضابطہ نام سورج سے نزدیک ترین قرب کے سال پر رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد گزرنے والے تارے کی ترتیب کا رومن عدد لگایا جاتا ہے۔ مشہور دم دار ستارے میں ہیلے (Halley)اور شو میکر لیوی (Shoemaker Levey)قابل ذکر ہیں۔

دُمدار ستاروں میں سے بعض ستاروں نے سورج کے گرد باقاعدہ راستے بنا رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں ان راستوں پر بار بار دیکھتے ہیں۔ 1965ء میں لاہور کے اوپر بھی ایک ایسا ہی ستارہ نظر آیا تھا۔

مزید تفصیل بی بی اردو پر ۔http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2014/11/141112_rosetta_comet_touchdown_zis

روزیٹا کے فیلے ربوٹ نے دمدار ستارے پر قدم جما لئے Reviewed by on . دمدار ستارہ(سیارچہ)جس کا سائنسی نام67P رکھا گیاہے، پرروزیٹاکےپہلےخلائی تحقیقی ربوٹ فلائی Philae نے قدم جما کر تاریخی کامیابی حاصل کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق یورپی دمدار ستارہ(سیارچہ)جس کا سائنسی نام67P رکھا گیاہے، پرروزیٹاکےپہلےخلائی تحقیقی ربوٹ فلائی Philae نے قدم جما کر تاریخی کامیابی حاصل کر لی ۔ تفصیلات کے مطابق یورپی Rating:
scroll to top