پیر , 24 جولائی 2017

Home » اہم » زبان کا گناہ

زبان کا گناہ

اسلام میں زبان کا گناہ بہت سے اعمال کو کہا گیا ہے مگر یہاں بطورِ خاص غیبت کا ذکر ہے۔ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’جو مسلمان اس دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی پردہ پوشی کرے گا‘‘ )بخاری، صحیح، 2, 862 : 2310(
ایک اور جگہ فرمایا:
نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو۔ کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ جسے تم ناپسند کرتے ہو‘‘
غیبت سے مراد ایسی برائی یا عیب جو ایک شخص میں پایا جاتا ہو اور اس شخص کو ذلیل کرنے کے لئے وہ عیب یا برائی اس کی عدم موجودگی میں بیان کی جائے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیبت ایسی برائی یا عیب ہے جو حقیقت میں ایک شخص میں موجود ہے اگر وہ برائی یا عیب موجود نہ ہوتا تو پھر اس کے متعلق ایسی بات کرنا بہتان یا تہمت آتا ہے۔ غیبت انسان کے اعمال کو لکڑی کی طرح راکھ بنا دیتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’اپنے بھائی کا ایسا ذکر جس کو وہ ناپسند کرے‘‘۔ ۔ ۔ صحابہ کرام نے عرض کی اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ غیبت ہے پھر صحابہ کرام نے عرض کی اگر وہ بات اس میں نہ پائی جاتی ہو تو اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح تم نے اس پر بہتان باندھا۔

No title(80)
موجودہ دور میں ہمارا یہ شیوہ بن گیا ہے کہ جہاں پر دو چار آدمی اکھٹے مل بیٹھتے ہیں وہ غیبت کرنا شروع کردیتے ہیں۔ گھنٹوں تک اس گناہ میں شامل رہنے کے باوجود بھی اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس گناہ سے کتنی تاکید کے ساتھ منع فرمایا ہے اور اس کے عذاب کو بھی بتادیا کہ غیبت کرنا اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے مترادف ہے جسے کھانا تم ناپسند کرتے ہو۔
پس درج بالا آیت کریمہ میں اصلاح احوال کا قرآنی ضابطہ بیان ہوا ہے کہ معاشرے میں موجود ان برائیوں سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ ساری باتیں معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے شب و روز کے معاملات پر نظر ثانی کریں کیونکہ آج ہماری نجی محفلوں میں، آپس میں دوستوں کے ہمراہ ان برائیوں میں مشغول رہتے ہیں اور قطرہ قطرہ اپنے نامہ اعمال کو گناہوں سے لبریز کررہے ہیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس کے لئے استغفار کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے‘‘ )الجامع لشعب الايمان رقم الحديث : 6366(

زبان کا گناہ Reviewed by on . اسلام میں زبان کا گناہ بہت سے اعمال کو کہا گیا ہے مگر یہاں بطورِ خاص غیبت کا ذکر ہے۔ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مسلمان اس دنیا میں کسی مسلمان کی اسلام میں زبان کا گناہ بہت سے اعمال کو کہا گیا ہے مگر یہاں بطورِ خاص غیبت کا ذکر ہے۔ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جو مسلمان اس دنیا میں کسی مسلمان کی Rating:
scroll to top