جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » اہم » زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد

زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد

زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد ہے۔ زرعی ترقی کے بغیر ملک میں صنعتی لگانا بہت مشکل ھے
کیونکہ ان کے لئے خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ جس قدر زیادہ سے زیاادہ خام مال فراہم ہوتا رہتا ہے
اسی قدر صنعتی ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے برعکس اگر صنعتی ترقی رک جائے اور خام مال مہیا نہ ہو
تو صنعتی شعبہ بھی زوال کا شکار ہو سکتا -روزگار کی فراہمی:
پاکستان بنیادی طور پر ایک زررعی ملک ہے جس کی ٧٥فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ اور اس آبادی
کا تمام تر انحصار زراعت پر ہے۔ گویا زراعت پاکستان کی ٧٥فیصد آآبادی کے لئے روزگار فراہم کرتی ہے۔
لہزا جس قدر پاکستان میں زرعی ترقی ہو گی اس قدر روزگار کے مواقع فراہم ہوتے جائیں گے۔۔
زرمبادلہ کا ذریعہ:-
زرعی شعبہ زرمبادلہ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔۔ پاکستان نقد آور فصلوں سے کثیر زرمبالہ کماتا
ہے۔ جس سے ہماری معاشی حالت بہتر ہوتی جاتی ہے۔اوربیرونی تجارت میں سہولتیں پیدا ہوتی ہیں۔ چنانچہ
اس قدر ہم زراعت کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اس قدر ہمیں بہتر اننداز میں زرمبادلہ حاصل ہوتا رہے۔اور
پاکستان کی معاشی حالت بھی بہتر ہوتی جائے گی۔ اور نئی تجارت منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ تلاش کر سکیں
گے۔۔
خودکفالت کا ذریعہ:-
زرعی شعبہ ملکی آبادی کو خوراک مہیا کرتا ہے اور یہی پاکستان کی آبادی کے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ
ہے‘اور پاکستان کی زرعی حکمت عملی میں خور کفالت کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لئے
پاکستان کی یہ کوششں ہے کہ جلد از جلد خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہو جائیں۔ بنابریں حکومت پاکستان
نے خودکفالت کے حصول کے لئے اچھی فصلیں اگانے کے علاوہ ماڈل فارم‘ ڈیری فارم‘ پوٹری فارم کی طرف
بھی خصوصی توجہ دی ہے کیونکہ تمام فارمز کا تعلق براہ راست زرعی شعبہ سے ہے۔
معیار زندگی پراثر:-
زرعی ترقی سے نہ صرف ملکی دولت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس سے عوام کے کاروبار کو بھی چار چاند
لگ جاتے ہیں اور ان کی طرز زندگی میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں معاشی استحکام سے عوام
خوش رہتے ہیں اور انکا معیار زندگی بھیبلند ہو جاتا ہے۔ عوام کو ضروریات زندگی کو پور کرنے کے لئے زیادہ
سے زیادہ کاروبار اور روزگار ملنے لگتا ہے تو وہ معاشرتی برائیوں اور ناجائز ذرائع آمدنی سے بھی بچ جاتے ہیں۔
لیکن حالیہ کچھ سالوں میں زراعت کے شعبہ مہگائی، غربت کی وجہ سے کافی متاثر ہوا ہے اور گرشتہ سالوں
کے سیلاب سے ہونے والا نقصان زراعت کے شعبہ کو کافی نقصان دہ ثابت ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ
زراعت کے شعبہ کی ترقی کے سلسلے میں موثر اقدامات کیے جائے اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر
ایسی حکمت عملی مرتب کیں جائیں جس سے ان علاقوں کو محفوظ رکھا جا سکے جو کاشت کے علاقے ہیں۔[/wr_column]]

زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد ہے۔ زرعی ترقی کے بغیر ملک میں صنعتی لگانا بہت مشکل ھے
کیونکہ ان کے لئے خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ جس قدر زیادہ سے زیاادہ خام مال فراہم ہوتا رہتا ہے
اسی قدر صنعتی ترقی ہوتی رہتی ہے۔ اس کے برعکس اگر صنعتی ترقی رک جائے اور خام مال مہیا نہ ہو
تو صنعتی شعبہ بھی زوال کا شکار ہو سکتا -روزگار کی فراہمی:
پاکستان بنیادی طور پر ایک زررعی ملک ہے جس کی ٧٥فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ اور اس آبادی
کا تمام تر انحصار زراعت پر ہے۔ گویا زراعت پاکستان کی ٧٥فیصد آآبادی کے لئے روزگار فراہم کرتی ہے۔
لہزا جس قدر پاکستان میں زرعی ترقی ہو گی اس قدر روزگار کے مواقع فراہم ہوتے جائیں گے۔۔
زرمبادلہ کا ذریعہ:-
زرعی شعبہ زرمبادلہ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔۔ پاکستان نقد آور فصلوں سے کثیر زرمبالہ کماتا
ہے۔ جس سے ہماری معاشی حالت بہتر ہوتی جاتی ہے۔اوربیرونی تجارت میں سہولتیں پیدا ہوتی ہیں۔ چنانچہ
اس قدر ہم زراعت کو بہتر بنانے پر توجہ دیں گے اس قدر ہمیں بہتر اننداز میں زرمبادلہ حاصل ہوتا رہے۔اور
پاکستان کی معاشی حالت بھی بہتر ہوتی جائے گی۔ اور نئی تجارت منڈیوں میں زیادہ سے زیادہ تلاش کر سکیں
گے۔۔
خودکفالت کا ذریعہ:-
زرعی شعبہ ملکی آبادی کو خوراک مہیا کرتا ہے اور یہی پاکستان کی آبادی کے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ
ہے‘اور پاکستان کی زرعی حکمت عملی میں خور کفالت کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لئے
پاکستان کی یہ کوششں ہے کہ جلد از جلد خوراک کے معاملے میں خود کفیل ہو جائیں۔ بنابریں حکومت پاکستان
نے خودکفالت کے حصول کے لئے اچھی فصلیں اگانے کے علاوہ ماڈل فارم‘ ڈیری فارم‘ پوٹری فارم کی طرف
بھی خصوصی توجہ دی ہے کیونکہ تمام فارمز کا تعلق براہ راست زرعی شعبہ سے ہے۔
معیار زندگی پراثر:-
زرعی ترقی سے نہ صرف ملکی دولت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس سے عوام کے کاروبار کو بھی چار چاند
لگ جاتے ہیں اور ان کی طرز زندگی میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہو جاتی ہیں معاشی استحکام سے عوام
خوش رہتے ہیں اور انکا معیار زندگی بھیبلند ہو جاتا ہے۔ عوام کو ضروریات زندگی کو پور کرنے کے لئے زیادہ
سے زیادہ کاروبار اور روزگار ملنے لگتا ہے تو وہ معاشرتی برائیوں اور ناجائز ذرائع آمدنی سے بھی بچ جاتے ہیں۔
لیکن حالیہ کچھ سالوں میں زراعت کے شعبہ مہگائی، غربت کی وجہ سے کافی متاثر ہوا ہے اور گرشتہ سالوں
کے سیلاب سے ہونے والا نقصان زراعت کے شعبہ کو کافی نقصان دہ ثابت ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ
زراعت کے شعبہ کی ترقی کے سلسلے میں موثر اقدامات کیے جائے اور سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر
ایسی حکمت عملی مرتب کیں جائیں جس سے ان علاقوں کو محفوظ رکھا جا سکے جو کاشت کے علاقے ہیں۔

[/wr_column][/wr_row]
زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد Reviewed by on . زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد ہے۔ زرعی ترقی کے بغیر ملک میں صنعتی لگانا بہت مشکل ھے کیونکہ ان کے لئے خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ جس قدر زیادہ سے زیاادہ خام زرعی شعبہ ملکی صنعتوں کی بنیاد ہے۔ زرعی ترقی کے بغیر ملک میں صنعتی لگانا بہت مشکل ھے کیونکہ ان کے لئے خام مال یہی شعبہ فراہم کرتا ہے۔ جس قدر زیادہ سے زیاادہ خام Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top