جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » سلطنتِ عثمانیہ کا آخری بہادر شہزادہ

سلطنتِ عثمانیہ کا آخری بہادر شہزادہ

شہزادہ مصطفیٰ کی موت کے بعد ترکی کو حورم سلطان کے چھوٹے بیٹے بایزید سے ساری امیدیں تھی۔ ایک بار والدہ سلطان نے سلیمان سے کہا تھا کہ سلیم بلکل اپنی ماں پر گیا ہے، لیکن بایزید دل کا بھت اچھا ہے۔ وہ ذہین اور سمجھدار ہے۔ وہ بلکل تم پر گیا ہے۔

ottoman sultan.sultanMahmudII.500والدہ سلطان نے بار بار کہا کہ بایزید اعتبار کے قابل ہے مگر سلیم پر کبھی اعتبار مت کرنا۔ مگر حورم سلیم کو ولی عہد بنانا چاہتی تھی اور اپنی زندگی میں سلیمان پر اس بات کے لیے دبائو ڈالتی رہتی تهی۔ جبکہ سلیم احمق، عیاش اور شرابی تها۔ اس کے مقابلے میں بایزید اپنے باپ کی شبیہہ تھا اور مصطفیٰ کے بعد اس میں وه خوبیاں تهی جو سلطنت عثمانیہ کو سنبھال سکیں۔

سلیمان نے دونوں بیٹوں کو دو صوبوں کا وزیر بنا کر مشرق اور مغرب کی طرف بھیجا۔ لاله موسی نے دونوں بهائیوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا تها ۔ اس کی باتوں میں آکر بایزید نے اپنے بھائی کو زنانہ کپڑوں کا ایک جوڑا تحفتاً بھیجا۔ جس پر سلیم نے وه جوڑا بمعه ایک شکایت کے رقعہ کے سلطان کو پیش کیا۔
اس بات کے ہوتے ہی معاملہ بڑھ گیا تھا اور دونوں شہزادوں کی فوجیں ایک دوسرے سے کھلم کھلا جنگ پر آمادہ تھے۔ اور سلیم نے بڑی ہوشیاری سے سلطان کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ یہ جنگ خود سلطان سے بغاوت کے لیے بایزید تیار کررہا تها۔ دونوں شہزادوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی۔ بایزید نے تب شجاعت کے جوہڑ دکھائے۔ اس نے جنگ کے دوران اپنی بے گناہی کا خط باپ گے نام لکھا۔ مگر یہ خط راستے میں ہی لالہ موسی نے ضایع کروادیا۔
خط کا جواب نہ آنے پر اس نے ایک غلطی کردی اور پرچم عثمانی کے خلاف تلوار اٹھالیں اور لوگوں کو اپنے پرچم تلے جمع کرنا شروع کردیا۔ ترکوں کو یقین تھا کہ وھی تخت کا سچا وارث ہے۔ لہذا ایک بڑی تعداد اسکے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ دوسری طرف سلیمان کی فوج نے بایزید کے خلاف تلوار اٹھانے سے منع کردیا۔ شہزادے بایزید کو مصطفی کے بعد ملک کی امید کہا جاتا تھا ایسے میں کوئی بھی محب وطن فوجی بایزید کے مقابلے کے لیے ہتھیار ا ٹھانے کو تیار ہی نہ تھا۔
بایزید نے اپنے والد سے استعجاء کی کہ وہ خود ایشیاء تشریف نہ لے کر آئیں اس کی لڑائی سلیم کے ساتھ ہیں۔ سلطان نے اس کی درخواست پر کوئی توجہ نہ کیں اور بایزید کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج بھیج دیں۔ بایزید تعاقب سے بچنے کے لیے اپنے قافلے سمیت ایران پہنچ گیا۔ شاہ ایران نے اس کا خوش دلی سے استقبال کیا اور اس کو اچھے سے رکھا۔ ترکوں میں وفاداری کا جو سخت معیار تھا، اس کے مطابق بایزید کے ایران میں پناہ لینے پر اسے غدار قرار دے دیا گیا۔
دوسری طرف سلطان نے شاہ ایران پر یہ بات واضح کردیں کہ اگر بایزید کو اس کے حوالے نہ کیا گیا تو ایران کو امن نصیب نہ ہوگا۔ شاہ ایران کے نزیک اپنے مہمان کو قید کرکے بادشاہ کے حوالے کرنا سبکی کی بات تھی اس لیے اس نے بایزید کو سازش کے الزام میں گرفتار کرلیا اور اس کے ساتھیوں کو قتل کروادیا۔ اسے سازش سے ترکی کے راستے روانہ کرکے اسے راستے میں ہی قتل کردیا گیا۔ دوسری طرف سلطان نے شاہ ایران پر یہ بات واضح کردیں کہ اگر بایزید کو اس کے حوالے نہ کیا گیا تو ایران کو امن نصیب نہ ہوگا۔ شاہ ایران کے نزیک اپنے مہمان کو قید کرکے بادشاہ کے حوالے کرنا سبکی کی بات تھی اس لیے اس نے بایزید کو سازش کے الزام میں گرفتار کرلیا اور اس کے ساتھیوں کو قتل کروادیا۔ اسے سازش سے ترکی کے راستے روانہ کرکے اسے راستے میں ہی قتل کردیا گیا۔
اس طرح سلطنت عثمانیہ اپنے آخری بہادر شہزادے سے محروم ہوگیا ، جوکہ اس کے بعد نااہلوں کے ھاتھ جاکر اس سلطنت کا زوال کا سفر شروع ہوگیا۔

سلطنتِ عثمانیہ کا آخری بہادر شہزادہ Reviewed by on . شہزادہ مصطفیٰ کی موت کے بعد ترکی کو حورم سلطان کے چھوٹے بیٹے بایزید سے ساری امیدیں تھی۔ ایک بار والدہ سلطان نے سلیمان سے کہا تھا کہ سلیم بلکل اپنی ماں پر گیا ہے شہزادہ مصطفیٰ کی موت کے بعد ترکی کو حورم سلطان کے چھوٹے بیٹے بایزید سے ساری امیدیں تھی۔ ایک بار والدہ سلطان نے سلیمان سے کہا تھا کہ سلیم بلکل اپنی ماں پر گیا ہے Rating: 0
scroll to top