جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » اہم » سوات بادشاہوں کی وادی:

سوات بادشاہوں کی وادی:

سوات بادشاہوں کی وادی، جھیلوں کی سرزمین، جھرنوں کی جلترنگ، سوات بدھ مت کی وراثت کا امین اور ادیبوں کی نگری، لیکن بات تو یہ ہے کہ سوات کب، کسے بلاتا ہے۔ میرا سوات سے یارانہ 16، 15 برس پرانا ہے۔ گزشتہ کافی برسوں سے سوات کے پہاڑوں کی طرف سے ازنِ باریابی نہیں ملا تو جا نہیں سکا ہوں۔ لیکن بالاآخر جمود ٹوٹا خدا خدا کرکے اور سوات جانے کی تیاری پکڑی۔
سوات کا تو کونہ کونہ مجسم خوبصورتی ہے، لیکن آج بات ہوگی سوات کے صرف ایک رنگ کی اور وہ ہے جاروگو وادی، جاروگو آبشار، جاروگو چراگاہ۔ مٹہ سوات کی سات تحصیلوں میں سے ایک ہے اور قدرتی حسن سے مالا مال ہونے کے باوجود سیاحتی مرکز نہیں، خال خال ہی سیاح اس طرف رخ کرتے ہیں۔مٹہ کا بازار مینگورہ سے کوئی 25 کلومیٹر شمال میں ہے۔ پہلے تو صرف مینگورہ کالام روڈ ہی ایک وسیلہ تھا مٹہ تک رسائی کا، لیکن اب مینگورہ سے دریائے سوات کے مغرب میں بھی اچھا بھلا روڈ آپ کو کوزہ بانڈی، سخرہ درا سے ہوتا ہوا مٹہ لے جا سکتا ہے۔ مٹہ کے شمال مغرب میں تقریباً 15 کلومیٹر کی دوری پر آغل کا قصبہ ہے۔ مٹہ سے آغل تک جب آپ باغوں میں سفر کرتے ہیں کہ سڑک کے دونوں طرف آڑو، سیب، خوبانی کے باغات کی بہار ہے۔ اگر تو آپ گاڑی کی رفتار سست کرتے ہیں تو باغوں کی ہوائیں چہرے پر پھوار کی طرح برستی اور محسوس ہوتی ہیں۔آغل کے چاروں طرف باغات ہیں، مشرق میں خورڑ ندی جبکہ مغرب میں آرنوی ندی ہے اور ان ندیوں کا پانی گاؤں کی گلیوں کی نالیوں میں بہتا شرر شرر کا راگ الاپتا رہتا ہے۔ آغل تک تو آپ کوئی بھی گاڑی استعمال کرسکتے ہیں، مگر یہاں سے آگے پہاڑ آپ کو آگے بڑھنے کی تب تک اجازت نہیں دیتے جب تک آپ جیپ کا انتظام نہیں کرلیتے۔آغل اور بہا کے درمیان فاضل بانڈہ روڈ پہ برتھانہ، لابٹ، گوالیری، پشتونئی اور نلکوٹ کے قصبات آتے ہیں۔ فاضل بانڈہ روڈ پر بہا ایک بڑا قصبہ ہے جہاں سے آپ کھانے پینے کی اشیاء خرید سکتے ہیں۔ یہاں سے دودھ، بسکٹ، نمکو، چاکلیٹ، جوس وغیرہ لئے جاسکتے ہیں، ہاں پانی اٹھانے کی زحمت نہ کیجئے کہ راستے میں ندی یا چشمے کا پانی یقیناً بازاری پانی سے ہزار درجہ بہتر ہے۔اب چاٹیکل بستی سے اب آپ کو جاروگو چراگاہ کی جانب پیدل سفر کرنا ہے۔ اگر یہ پہاڑ، جنگل اور وادی آپ کے لئے نئے ہیں تو بہتر ہے کہ ایک مقامی رہائشی کو بطور گائیڈ ساتھ لے لیا جائے۔چاٹیکل بستی جاروگو جنگل کے کنارے آباد ہے۔ بس یہی وجہ ہے کہ ابھی تک تو کافی حد تک انسانی مداخلت سے محفوظ ہے۔ ہانپتے کانپتے، ہنستے کھیلتے، رکتے چلتے، ہواؤں کی اٹکھلیاں محسوس کرتے آپ جاروگو جنگل سے جارو گو سبزہ زار اور پھر جاروگو بانڈہ پہنچ جاتے ہیں۔جاروگو بانڈہ کے میں اک مسجد ہے، جس کے مشرقی جانب سے راستہ پھر جنگل میں اترتا ہے جو آپ کو جاروگو کے چشموں اور قدرتی تالابوں میں لے جاتا ہے، یہاں آپ کو ہر طرف پانی ملے گا۔ چھوٹی آبشاروں کی شکل میں پانی، جھرنوں کی شکل میں پانی اور تالاب کی شکل میں پانی۔ آپ نہا بھی سکتے ہیں مگر ہمت کرنا ہوگی کیونکہ یہ پانی اوپر گلیشئروں سے آنے کی وجہ سے برفیلا ہے۔جب آپ جارو گو آبشار کو پہلی بار دیکھتے ہیں تو مبہوت ہی رہ جاتے ہیں کہ اتنا خوبصورت آبشار اور اتنا گمنام کیوں ہے؟ اتنے حسین اور دلکش نظاروں کی داستان کیا بیان ہو کہ یوں سمجھ لیجئے کہ آپ لوٹ تو آتے ہیں لیکن دل وہیں رہ جاتا ہے۔

سوات بادشاہوں کی وادی: Reviewed by on . سوات بادشاہوں کی وادی، جھیلوں کی سرزمین، جھرنوں کی جلترنگ، سوات بدھ مت کی وراثت کا امین اور ادیبوں کی نگری، لیکن بات تو یہ ہے کہ سوات کب، کسے بلاتا ہے۔ میرا سوا سوات بادشاہوں کی وادی، جھیلوں کی سرزمین، جھرنوں کی جلترنگ، سوات بدھ مت کی وراثت کا امین اور ادیبوں کی نگری، لیکن بات تو یہ ہے کہ سوات کب، کسے بلاتا ہے۔ میرا سوا Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top