جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » انٹرٹینمنٹ » سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا پر افواہیں پھیلانے کا عمل نیا نہیں:

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا پر افواہیں پھیلانے کا عمل نیا نہیں:

ایسے ہی ایک افواہ ساز نے گذشتہ دنوں ٹوئٹر پر ٹوئٹر ہی کے بارے میں افواہ گڑھ کے پھیلادی۔ یہ افواہ ہیش ٹیگ #SaveTwitter کے تحت اس زوروں سے پھیلائی گئی کہ ہزاروں لوگوں نے اس جھوٹ کو سچ مان لیا۔
یہ ہیش ٹیگ اس ’’خبر‘‘ کے ساتھ اور اس پر احتجاج کے لیے بنایا گیا تھا کہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر اگلے سال یعنی 2017 میں ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ اس ہیش ٹیگ کے سامنے آتے ہی، جس میں کیے گئے دعوے کا کوئی ثبوت نہیں پیش کیا گیا تھا، ٹوئٹس کی قطار لگ گئی، جن میں ٹوئٹر کی بندش کے فیصلے پر احتجاج کیا گیا تھا۔
اگرچہ یہ حقیقت سامنے نہ آسکی کہ اس ہیش ٹیگ کی اصلیت کیا ہے، یہ کس نے بنایا اور کہاں بنا، لیکن اسے بہت شہرت ملی۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ افواہ اس وقت زیادہ تیزی سے پھیلی جب گیارہ اگست کو یہ یوٹیوب سے تعلق رکھنے والے ایک یوزر کے ہتھے چڑھی، جس کے دس ملین سے زیادہ فالوورز ہیں۔ اس یوزر نے بعدازاں اس افواہ کو پھیلانے میں حصہ دار بننے پر معذرت کی۔
اس ہیش ٹیگ کے حوالے سے ٹوئٹ کرنے والے افراد اپنی من پسند ویب سائٹ کی بندش کے فیصلے پر سخت ناراض تھے، ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سائٹ سے محبت کرتے ہیں، آخر ایسی کیا مصیبت آئی ہے کہ اسے بند کیا جارہا ہے۔ اس افواہ پر احتجاج کرنے والوں نے اس حوالے سے شدید حیرت اور غم وغصے کا اظہار کیا۔
بہرحال جلد ہی یہ حقیقت سامنے آگئی کہ ٹوئٹر کے آئندہ سال بند ہونے کی خبر محض افواہ ہے اور ایسا کچھ نہیں ہورہا، تو ٹوئٹر سے وابستہ افراد اور اس سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم سے محبت کرنے والوں کی جان میں جان آئی۔اب اس افوا سے کن لوگوں کو فاٰئدہ ہو سکتا ہے یہ معلوم نہیں لیکن سوشل میڈیا کے مداح جب تک تصدیق نہ ہو کہ خبر حقیقی ہے ٰٰٰیا نہیں دوسرے لوگوں تک پہچانے سے گریز کریں.

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی دنیا پر افواہیں پھیلانے کا عمل نیا نہیں: Reviewed by on . ایسے ہی ایک افواہ ساز نے گذشتہ دنوں ٹوئٹر پر ٹوئٹر ہی کے بارے میں افواہ گڑھ کے پھیلادی۔ یہ افواہ ہیش ٹیگ #SaveTwitter کے تحت اس زوروں سے پھیلائی گئی کہ ہزاروں ل ایسے ہی ایک افواہ ساز نے گذشتہ دنوں ٹوئٹر پر ٹوئٹر ہی کے بارے میں افواہ گڑھ کے پھیلادی۔ یہ افواہ ہیش ٹیگ #SaveTwitter کے تحت اس زوروں سے پھیلائی گئی کہ ہزاروں ل Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top