بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اہم » سکندر اعظم مقدونیہ کا بادشاہ

سکندر اعظم مقدونیہ کا بادشاہ

تاریخ عالم میں بڑے بڑے بہادر اور مشہور سپاہی گزرے ہیں، لیکن فوجی کا رناموں میں سکندر فرماں روائے مقدونیہ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔

سکندراعظم کی پیدائشن مقدونیہ کے دارالحکومت پیلا میں 356 قبل مسیح کو ہوئی۔ سکندر کا باپ فلپ دوئم صحیح معنوں میں غیر معمولی قابلیت اور بصیرت کا حامل انسان تھا۔ فلپ نے مقدونیہ کی فوج میں توسیع اور تنظیم پیدا کی اور اسے ایک اعلیٰ درجہ کی جنگجو طاقت میں تبدیل کر دیا ۔ اس طاقت کو اس نے پہلی بار یونان کے شمالی حصو ں کو فتح کر نے میں استعمال کیا۔

سکندر کی تربیت

سکندر ابھی اٹھا رہ سال کا تھا کہ شیرونیہ کی جنگ میں اس کے باپ فلپ ثانی نے بیٹے کو اپنے رسالے کا کمان دار مقرر کردیا۔ سکندر نے اس فوجی رسالے کی مددسے غنیم پر ایسے جرائت مندانہ حملے کئےکہ آخر فلپ ثانی کو اس جنگ میں فتح حاصل ہوگئی۔ اسی دوران ایک جنگ میں فلپ قتل ہو گیا، اور سکندر تخت پر بیٹھا۔ فلپ نے اپنے بیٹے کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، نوجوان سکندر عسکری تربیت سے لیس تھا، اس کی ذہنی تربیت کا بھی فلپ نے خاظر خواہ اہتمام کیا تھا۔ عظیم عالم ارسطو اس کا استاد مقرر ہوا تھا، ارسطو دنیائے قدیم کا سب سے عظیم سائنسدان اور فلسفی تھا۔

سکندر کی فتوحات کا آغاز

مقدونیہ یونان کی ایک چھوٹی سی ریاست تھی۔ آس پاس کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ملک مقدونیہ کے دشمن تھے۔ سکندر نے سب سے پہلے تو ان کو زیر کیا، اور 334  قبل مسیح میں ایران پر حملہ کا عزم ظاہر کیا۔ موسم بہار کے شروع میں سکندر تیس ہزار پیادہ اور پاچ ہزار سوار فوج لے کر ایشیا کی طرف بڑھا اور اس ملک میں داخل ہوگیا، جس کو آج کل ٹرکی کہتے ہیں، مئی کے مہینے میں اس نے دریائے گرے نیکس کے کنارے پر ایرانی فوج کو شکست دی پھر مشرق اور جنوب کا رخ کرتے کے شام کو شکست دے دی۔ اس کے بعد مشرق اور جنوب کا رخ کیا اور پورے ساحل پر قبضہ کر لیا اس دوران ایران کی بحری طا قت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ مصر نے جنگ کے بغیر ہی اطاعت قبول کر لی۔

اس کے بعد سات سال تک سکندر لڑتا بھڑتا مشرق کی طرف بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ایران میں سے گزر کر ہندوستان یں داخل ہوگیا۔ یہاں دریائے جہلم کے کنارے پورس راجہ سے اس کی لڑائی ہوی، جس نے سکندر کا جرائت اور بہادری سے مقابلہ کیا ، مگر سکندر کی چال کامیاب رہی اور پورس کو شکست ہوئی۔ سکندر سارے بر عظیم کو فتح کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا مگر اس کی فوج نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ چنانچہ وہ بلوچستان کے راستے عراق کے شہر بابل میں پہنچا، جہاں اسے بخار ہوااور دنیا کو فتح کرنے کی حسرت دل میں لئے 33 سال کی عمر میں 323 ق م میں مر گیا۔

سکندراعظم کی حکمت عملی یہ تھی کہ جن ملکوں کو فتح کرتا ان کے باشندوں کو مخلوط کر دیتا ۔ اس طرح جن ملکوں میں اس نے یونائی تہذیب پھیلائی اور صدیوں اس سے متاثر رہے۔ سکندر اپنے زمانے کے رواج کے مطابق خود فوج کی اگلی صفحوں میں لڑتا تھا۔ کئی دفعہ ذخمی بھی ہوا وہ نہایت بہادر آدمی تھا۔

سکندر اعظم یونانی مقدونیہ1

‘My boy, you must find a kingdom big enough for your ambition. Macedon is too small for you’, the words of King Phillip II of Macedon were prophetic as he addressed his son Alexander after he had tamed a fearful horse at the age of just 10.

Alexander would grow up to be one of the world’s most legendary military commanders. Born into an era of petty tyrants and brutality Alexander the Great used the exceptional education he received – from, among others, Aristole – and used it to marshal his forces in nearly impossible battles. He emerged victorious over the course of 13 years of battles from which was forged one of the largest empires the world has ever seen.

سکندر کی فتوحات کا نقشہ

سکندر کی فتوحات کا نقشہ

سکندر اعظم مقدونیہ کا بادشاہ Reviewed by on . تاریخ عالم میں بڑے بڑے بہادر اور مشہور سپاہی گزرے ہیں، لیکن فوجی کا رناموں میں سکندر فرماں روائے مقدونیہ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ سکندراعظم کی پیدائشن مق تاریخ عالم میں بڑے بڑے بہادر اور مشہور سپاہی گزرے ہیں، لیکن فوجی کا رناموں میں سکندر فرماں روائے مقدونیہ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ سکندراعظم کی پیدائشن مق Rating:
scroll to top