ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تحقیق و جستجو » سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔

سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔

سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہ الفاظ جب بچپن میں میں سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا دیکھتی تھی تب حیرت کرتی تھی کہ سگریٹ کی کمپنی والے یہ الفاظ اپنی چیز کی برائی بیان کرنے کے لیے کیوں لکھتے ہیں۔ جب کچھ سمجھ آ ئی تو پتہ چلا کہ یہ وزارتِ صحت کی طرف سے آرڈر هے اور اس پر انھیں ہر حال میں عمل پیرا ہونا ہے۔ تب اس بات پر الجھ گئی کہ اگر لوگ جانتے ہے کہ یہ صحت کے لیے مضر ہے تو اس کا استعمال کیوں کرتے ہیں؟۔ سگریٹ کمپنی نے تو یہ لکھ کے اپنا فرض پورا کرلیا اب یہ پینے والے پر ہے کہ وه اس نقصان دہ چیز کو استعمال کرتا ہے یا نہیں؟ یعنی پوری کی پوری ذمہ داری پینے والے پر ہوتی ہے۔
پھر کچھ سمجھ بوجھ آئی تو اس بات کا ادراک ہوا کہ یہ انسان فطرت میں ہے کہ وه ممنوعہ شے کی طرف کھینچا چلا جاتا ہے۔ آپ یه بھی کہہ سکتے ہے کہ یہ حیز ہمیں آدم سے ورثے میں ملی ہے۔ اس کی آپ کو ایک چھوٹی سی مثال دے کر بتاتی ہوں کہ ہر سال دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے بڑے پروگرام ہوتے ہیں سگریٹ نوشی کی روک ٹھام کے لیے. آپ کو یه جان کر حیرت ہوگی کہ اس پروگراموں پر پیسہ سگریٹ کی بڑی بڑی کمپنیاں لگاتی ہے۔ آپ کا سوال ہوگا ایسا کیوں؟
تو اس کا جواب وہی انسانی فطرت ہے کہ جس چیز سے روکا جائے اس کی کشش اس انسان کے لیے بڑھ جاتی ہے کیوں کہ ریسرچ سے ثابت هوا ہے که جس دوران یہ روک تھام کے پروگرام ہوتے ہیں اس دوران سگریٹ نوشوں کی تعداد میں تیزی سے اضافه دیکها گیا ہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوگے کہ جب انسانی فطرت ایسی ہے تو میں یہ آرٹیکل لکھ کر ایک اور حماقت کیوں کر رہی ہوں تو پھر بے فکر ہوجائے میں کسی کو روکوں گی نہیں جس نے رکنا ہوگا وہ شاید خود ہی پڑھ کے رک جائے گا۔
سی- این – این کی رپورٹ کے مطابق ہر سگریٹ نوش ۵۰ سال تک مر جاتا ہے اور سگریٹ موٹاپے سے زیاہ تیزی سے جان لیتی ہے۔ جن لوگوں کہ خودکشی کا شوق ہے یہ اچھا طریقه ہے مگر ایک بار ذرا غور کریں یه ایک سلو پوائزن ہے جو آپ کو آہستہ آھستہ اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔ تو ایک بار آپ ذرا تصور کریں آپ پچاس سال کی عمر میں جا کے جب آپ کے بچوں کو آپ کی ضرورت ہوگی۔ جب آپ کے پھل کھانے کا وقت آئے گا اس عمر میں جا کے کسی ہسپتال کے بیڈ پر عبرت کا نشان بن کر مرنا پسند کریں گے؟
ایک رپورٹ کے مطابق اس صدی میں سگریٹ نوشی کی وجه سے ایک بلین یعنی ایک عرب لوگ مرے ہیں ۔ جبکہ کئی ملکوں کی حکومت کھربوں ڈالر تمباکو کی انڈسٹری سے کما رہی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سگریٹ پینے والے لوگوں میں سے آدھے سگریٹ نوشی کی وجہ سے مرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کی موت کینسر کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بے شک وه کینسر منہ کا کینسر ہوگا جس میں آپ اس دنیا کے سارے ذائقوں سے محروم ہوجائے گے۔
مجھے حیرت ہے که سگریٹ میں ایسا کون س ذائقہ ہے کہ جس کے لیے لوگ دنیا کی لذیذ نعمتوں کی قربانی دے رھے ہیں۔ سائنسدانوں کے شمار کے مطابق تیس ملین لوگ یعنی تین کڑوڑ نوجوان سگریٹ کی شروعات کرتے ہیں۔ تو کیوں نہ کریں آخر آج کل کے نوجوانوں کی سگریٹ بہترین دوست ہے۔ جو اس کی موت تک اس کے ساتھ رہتی ہے اور موت کو دعوت دیتی ہے۔
کئی لوگوں کو زندگی میں ھی سگریٹ کی وجه سے سانس لینے میں مسئلہ یا دمے کی بیماریاں ہوجاتی ہے اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ آپ کے آس پاس کے لوگوں کو بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی آپ کے پیاروں کو دمہ کا مرض لگ جائے آپ کو کوئی پرواہ نہیں؟۔ یہ سب پڑھنے کے بعد بھی آپ سگریٹ نوشی نہیں چھوڑنا چاھتے تو آپ کی مرضی کہ آپ سلو پوائزننگ کے قائل ہے جو آہستھ آہستہ دبے پائوں موت کی طرف بڑھتی ہے۔

سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ Reviewed by on . سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہ الفاظ جب بچپن میں میں سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا دیکھتی تھی تب حیرت کرتی تھی کہ سگریٹ کی کمپنی والے یہ الفاظ اپنی چیز کی برائی سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ یہ الفاظ جب بچپن میں میں سگریٹ کے پیکٹ کے اوپر لکھا دیکھتی تھی تب حیرت کرتی تھی کہ سگریٹ کی کمپنی والے یہ الفاظ اپنی چیز کی برائی Rating:
scroll to top