ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » شہزادے مصطفیٰ کی موت

شہزادے مصطفیٰ کی موت

سلطان سلیمان کے بعد شہزادہ مصطفیٰ ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ کا ولی عہد تھا۔ وہ ایک بہادر اور عقلمند نوجوان تھا۔ اس کو عوام بے انتہا پسند کرتی تھی ۔ اسے تلوار بازی اور شہسواری اور پیراکی میں امتیاز حاصل تھا۔ و ہمیشہ کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا اور زخم کھانے سے پرہیز نہیں کرتا تها۔ منطق کے استاد مصطفیٰ کے متعلق کہتے تھے کہ اس میں استقلال ، صبراور نازک موقعوں پر جسارت سے سرداری کرنے کی صفتیں ہیں جو آلِ عثمان کی امتیازی خصوصیات ہیں اس میں بدرجه اتم موجود ہے۔
مگر حورم سلطان سلیم کو ولی عہد بنانا چاہتی تھی ۔ بظاہر اس عورت نے ایسی کوئی حرکت نہ کی جس سے یہ ظاہر ہوکہ وہ مصطفیٰ کو ولی عہد نہیں دیکھنا چاہتی۔ وہ چاھتی تھی کہ مصطفی کا کا نٹا بیچ سے ہٹ جائے اس کے لیے اس نے بے انتہا چالاکی سے کام لیا وہ سلطان کے خلاف سازش کر کے خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی سواس نے آہستہ آہستہ سازش کا جال بننا شروع کیا اور سلطان کے ذہن میں یہ بات ڈالنا شروع کردیں کہ مصطفیٰ اتنا بہادر ہے کہ سلطان کو بھی پچھاڑ سکتا ہے یہ سوچ وه آہستہ آہستہ سلطان کے ذہن میں ڈال رهی تھی۔ اس طرح کر کے اس نے سلطان کے دل میں شک ڈال دیا ۔
پھر حورم سلطان کو موقع مل گیا، ۱۵۵۳ء کے موسمِ گرما مں یہ میں مشرقی سرحد پر بدقسمتی سے ایک ایسا واقعہ ہوا کہ جس کی وجہ سے حورم کو موقغ مل گیا۔ افواہیں آنے لگ گئی که فوجی رستم کو ستا رہے ہیں کہ اگر سلطان ان کی قیادت نہیں کرسکتا تو پھر مصطفیٰ کو ان کا سردار بنادیا جائے۔
اس خبر کو حورم نے اس انداز سے سلیمان کو پیش کیا کہ اسے مصطفیٰ کی بغاوت کا یقین ہوگیا، سلطان نے رستم کو واپس بلالیا اور بایزید کو فوج کی ذمہ داری دے دیں۔ اور مصطفی کو کہلوا بھیجا کہ حاضر ہو اور اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ سب کو لگا کہ مصطفیٰ فرار هوجائے گا مگر اس بہادر شہزادے نے کہا کہ اگر اس کے نصیب میں موت لکھی ہے تو یه اس کی خوش قسمتی ہوگی که یہ موت اس کے باپ ہاتھوں آئے۔
وه اپنے باپ سے ملنے کے لیے اکیلا آگے بڑھا۔ کہا جاتا ہے که سلیمان چلمن میں سے سب دیکھ رھا تھا مگر وه خیمے کے خیمے کے اندر نہ گیا۔ اور مصطفیٰ کو خیمے میں قتل کردیا گیا۔ اس کا دامن ہر شک سے پاک تھا اگر سلیمان کے بعد ترکوں کو اس کے جیسا راہبر مل جاتا تو شاید سلطنت عثمانیہ کو ایسے زوال نہ آتا.
ایک ترک شاعر یحییٰ نے اس کے لیچ ایک شعر لکھا جو بہت مقبول هوا:
شیطان کی طرح رستم کی رسی دراز ہے اور سلطان کا تخت مصطفیٰ سے محروم ہوگیا۔ " اور " جھوٹے سازشی نے کیا چھپی ہوئی نفرت دکھائی جس کی وجہ سے ہمارے آنسو رکنے میں نہیں آتے موت مصطفی کے لیے کیا تحفہ لائی۔"

شہزادے مصطفیٰ کی موت Reviewed by on . سلطان سلیمان کے بعد شہزادہ مصطفیٰ ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ کا ولی عہد تھا۔ وہ ایک بہادر اور عقلمند نوجوان تھا۔ اس کو عوام بے انتہا پسند کرتی تھی ۔ اسے تلوار بازی سلطان سلیمان کے بعد شہزادہ مصطفیٰ ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ کا ولی عہد تھا۔ وہ ایک بہادر اور عقلمند نوجوان تھا۔ اس کو عوام بے انتہا پسند کرتی تھی ۔ اسے تلوار بازی Rating:
scroll to top