ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » اہم » شہزادے کی تربیت

شہزادے کی تربیت

علماء میں سے ایک، ایک شہزادے کی تربیت کرتا تھا ۔ اسے بے پرواہی سے مارتا اور بے پناہ ظلم کیا کرتا تھا. ایک مرتبہ بیٹے نے نڈھال ہو کر اپنے باپ سے شکایت کی اور اپنے دکھتے جسم سے لباس ہٹا دیا. باپ کے دل کو بہت تکلیف ہوئی.
اس نے استاد کو بلایا …اور کہا!
تم عام رعایا کے بیٹوں سے اس قدر سرزنش اور ظلم کا سلوک روا نہیں رکھتے جس قدر میرے بیٹے سے رکھتے ہو؟ اس کی کیا وجہ ہے؟
اس نے کہا "وجہ یہ ہے کہ سنجیدہ بات اور اچھا عمل کرنا سب مخلوق کے لیۓ عام طور پر اور بادشاہوں کے لیۓ خاص طور پر ضروری ہے۔ اس لیۓ کہ جو قول و فعل ان ( بادشاہوں ) سے سرزد ہوتا ہے یقینا لوگ اسے اپنا لیتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے قول و فعل کو اس قدر اہمیت حاصل نہیں ہوتی."
اگر کوئی غریب آدمی ایک سو ناپسندیدہ باتیں کرے تو اس کے ساتھی سو میں سے ایک بھی نہیں جانتے.
اور اگر کوئی بادشاہ ایک مذاق کرے تو اسے ایک خطے سے دوسرے خطے میں پہنچا دیتے ہیں.
پس واجب ٹھہرا کہ شہزادے کے استاد کو بادشاہوں کے بیٹوں کی اخلاقی شائستگی کے لیۓ ___ کہ خداوند تعالی ان کی نیک تربیت میں پرورش کرے ___ عوام کی نسبت زیادہ کوشش کرنی چاہیۓ.”
حکایت شیخ سعدی رحمہ اللہ علیہ

شہزادے کی تربیت Reviewed by on . علماء میں سے ایک، ایک شہزادے کی تربیت کرتا تھا ۔ اسے بے پرواہی سے مارتا اور بے پناہ ظلم کیا کرتا تھا. ایک مرتبہ بیٹے نے نڈھال ہو کر اپنے باپ سے شکایت کی اور اپن علماء میں سے ایک، ایک شہزادے کی تربیت کرتا تھا ۔ اسے بے پرواہی سے مارتا اور بے پناہ ظلم کیا کرتا تھا. ایک مرتبہ بیٹے نے نڈھال ہو کر اپنے باپ سے شکایت کی اور اپن Rating:
scroll to top