ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » شیر شاہ سوری ہندوستان کا عوام دوست بادشاہ

شیر شاہ سوری ہندوستان کا عوام دوست بادشاہ

مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کرنے والا شیر شاہ سُوری، حسن انتظام اور عدل و انصاف کے اعتبار سے بہترین بادشاہ، تعلیم یافتہ، روشن خیال اور رحمدل انسان تھا۔

شیر شاہ، بادشاہ ہندوستان کیسے بنا

مغلوں کے زمانے سے پہلے بہلول لودھی کے عہد میں پیدا ہوا، سہسرام میں لڑکپن بسر کیا، بڑا ہوا تو بات کی جاگیر کا بہترین انتظام سنمبھالا۔شیر شاہ کی ماں سوتیلی تھی، جو سختی کرتی تھی، ماں کی سختیوں سے گھبراکر گھر چھوڑ کر آگرہ چلاگیا۔ اس کا اصلی نام فرید خان تھاجب ابراہم لودھی مارا گیا اوربابر بادشاہ ہوگیا تو پُورب کے افغان مغلوں سے لڑنے کی تیاری کررہے تھے۔ فرید خان نے اس زمانے میں ایک شیر مار کر شیر خان کا خطاب حاصل کیا۔ اس کے بعد مغلوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے شیر خان اور دوسرے افغان سرداروں نے بابر کی اطاعت قبول کر لی۔

ہمایوں بادشاہ ہوا تو شیر خان نے اس کی الجھنوں سے فائدہ اٹھا کر بنگال اور بہار پر قبضہ کر لیا۔ چوسہ اور قنوج کے قریب لڑائیاں ہوئیں، ہمایوں مقابلے کی تاب نہ لا سکا اور پنجاب اور سند ھ سے ہوتا ہوا ایران چلا گیااور شیرخان ، شیر شاہ کے لقب سے ہندوستان کا بادشاہ بنا۔

تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔

تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔

شیر شاہ سوری، باکمال متنظم کے طور پر

یوں تو شیر شاہ کی یہی خوبی حیرت انگیز ہے کہ اس نے معمولی حیثیت سے اٹھ کر صرف اپنی قابلیت اور بہادری سے ہندوستان کی بادشاہی حاصل کر لی لیکن اس کی بڑائی کا راز یہ ہے کہ بادشاہ بننے کے بعد اس نے ملک کا انتظام نہایت اچھا چلایا۔ رعایا خوشحآل ہوگئی، تجارت ترقی کرنے لگی، راستے پر امن ہوگئے، فوج اور مالگزاری کا ایسا نطام قائم کیا ، جو آج تک برقرار ہے۔ بڑی بڑی سڑکیں بننے لگیں، جن میں سب سے بڑی وہ سڑک ہے جو بنگال سے صوبہ سرحد تک جاتی تھی۔ یہ سڑک آج تک موجود ہے، اور گرینڈ ٹرنک روڈ کہلاتی ہے، مسافروں کے آرام کے لئے سرائیں بنوائیں، کنویں کھدوائے، مندر اور مسجدیں بنوائیں، اور جگہ جگہ ڈاک چوکیا قایم کیں۔

کالنجر کے راجا سے لڑائی ہو رہی تھی کہ ایک باارود کے انبار میں ایک گولہ گر کر پھٹا جس سے شیر شاہ سوری بری طرح زخمی ہو گیا، لیکن اس حالت میں بھی اپنے افسروں کو تاکید کرتا رہا کہ کالنجر کا قلعہ ضرور فتح ہو۔ قلع فتح ہو گیا۔ شیر شاہ نے اسی حالت میں اللہ کا شکر ادا کیا اور دوسرے دن فوت ہوگیا۔ اس کی میت سہرام لے جا کر دفن کی گئی۔

شیر شاہ نے صرف پانچ سال حکومت کی لیکن اپنی خوبیوں کی وجہ سے تاریخ میں نام چھوڑگیا۔ تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔

اہم معلومات: شیر شاہ ہندوستان کی ریاست سُور کا فرمانروارہا ، دور حکموت صرف پانچ سال تھا۔

شیر شاہ سوری ہندوستان کا عوام دوست بادشاہ Reviewed by on . مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کرنے والا شیر شاہ سُوری، حسن انتظام اور عدل و انصاف کے اعتبار سے بہترین بادشاہ، تعلیم یافتہ، روشن خی مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکومت قائم کرنے والا شیر شاہ سُوری، حسن انتظام اور عدل و انصاف کے اعتبار سے بہترین بادشاہ، تعلیم یافتہ، روشن خی Rating:
scroll to top