پیر , 24 جولائی 2017

Home » اضافی » طعنہ زنی اور الزام تراشی کی ممانعت

طعنہ زنی اور الزام تراشی کی ممانعت

وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ
الحجرات:۱۱
’’آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی نہ کیا کرو‘‘
یہاں قرآن مجید نے ایمان والوں کو آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ جب ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی پر طعنہ زنی کرے گا تو وہ بھی انتقاماً اس سے بڑھ کر اس پر طعنہ زنی کرے گا۔ اگر کوئی الزام لگائے گا تو دوسرے کی کوشش ہوگی کہ وہ اس سے بڑھ کر اس پر الزام لگائے اور اسے شرمندہ کرے۔
حقیقت میں وہ جو الزام لگاتا ہے وہ دوسرے پر نہیں بلکہ اپنے آپ پر لگاتا ہے۔ وہ برا بھلا دوسرے کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو کہتا ہے۔ وہ دوسرے کی بدنامی نہیں بلکہ اپنی بدنامی کررہا ہوتا ہے۔ اگر اسی طرح دوسرے کے والدین کو گالیاں دیتا ہے تو وہ حقیقت میں اپنے والدین کو گالیاں دیتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے؟ آقا علیہ السلام نے فرمایا ہاں! یہ کسی کے باپ کو گالی دے گا تو وہ اس کے باپ کو گالی دے گا یہ کسی کی ماں کو گالی دے گا تو وہ اس کی ماں کو گالی دے گا‘‘۔
صحیح بخار ی :

13537-طعنہ-زنی
اس سے پتہ چلا کہ الزام تراشی اور طعنہ زنی سے انسان گناہ میں آگے سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اس لئے قرآن میں باری تعالیٰ نے اس برائی سے بچنے کے لئے صریحاً منع فرمایا ہے۔

طعنہ زنی اور الزام تراشی کی ممانعت Reviewed by on . وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ الحجرات:۱۱ ’’آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی نہ کیا کرو‘‘ یہاں قرآن مجید نے ایمان والوں کو آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کرنے س وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ الحجرات:۱۱ ’’آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی نہ کیا کرو‘‘ یہاں قرآن مجید نے ایمان والوں کو آپس میں طعنہ زنی اور الزام تراشی کرنے س Rating:
scroll to top