جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » طولون کی مصر میں گورنری

طولون کی مصر میں گورنری

ایک دفعه کا ذکر ہے کہ امیرالمومنین ہارون الرشید قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تهے۔ وه جب اس آیت پر پہنچے جس میں الّٰلہ پاک نے فرعون کے تکبر کا ذکر کیا تھا۔ " وہ فخر کرتا تھا ملک مصر اور نیل کی نہروں پر جو درختوں کے نیچے ہیں۔" ہارون الرشید پڑھتے پڑھتے رک گئے اور کچھ دیر سوچنے کے بعد حاجب کو حکم دیا" تمام بغداد میں گشت کرو اور اپنے آدمیوں کو بھی بھجوا کر ایسا شخص تلاش کرو جو تمہیں بغداد میں سب سے زیادہ حقیر، نالائق ، غلیظ اور کمینہ معلوم هو" حاجب اور تمام ملازم تلاش بسیار کے بعد ایک کھنڈرکے پاس پهنچے تو ایک آدمی کتوں کے پاس سو رہا تھا ۔ ان لوگوں نے اس کو کتوں کے پاس سونے کے باعث حقیر سمجھا اور خلیفہ کے پاس لے گئے۔ خلیفہ نے پوچھا. " کیا نام ہے تیرا؟" اس نے جواب دیا " طولون" خلیفہ نے پوچھا " کیاکرتے هو؟" طولون نے جواب دیا " کتے پالتا هوں" "کسی مقام کا امیر بنا کے بھجوادوں؟ اگر اپنا فرائض منصبی اچھی طرح بجا لائے۔" طولون نے جواب دیا "اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ، اگر امیرالومنین مجهے اس لائق خیال فرمائیں تو حاضر هوں" امیرالومنین نے حکم دیا کہ مصر کی ولایت کا فرمان اس کے نام لکھ دیا جائے اور اس کے تیاری کا تمام سامان مہیا کیا جائے ۔ چنانچہ اس کے لیے امیرانہ سامان ، قیمتی لباس ، نوکر چاکر اور گهوڑے سب اکٹھا کیے گئے۔ لوگ اس کا حال سن کے انگشتِ بدنداں رہ گئے۔ ایک مصاحب نے امیرالومنین سے پوچھا کہ اس ذلیل ترین شخص کو اتنے بڑے عھدے پر مامور کرنے کی کیا وجہ ہے؟ خلیفہ نے جواب دیا " فرعون ملعون کو مصر پڑ بڑا ناز تها۔ میں نے اس کو اس کے غرور کو نیچا دکھانے کے لیے بغداد کے سب سے حقیر اور سب سے ذلیل شخص کو اس کی مملکت کا والی بنا کے بھیجا تاکہ دنیا والوں کو معلوم هوجائے کہ خدا عزوجل کے نزدیک دنیا کی کوئی وقعت نہیں" خدا کا کرنا ایسا هوا که جب طولون نے مصر کی بھاگ دوڑ سنبھالی تواس نے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دےے اوروه مدت تک مصر کا والی بنا رہا۔

طولون کی مصر میں گورنری Reviewed by on . ایک دفعه کا ذکر ہے کہ امیرالمومنین ہارون الرشید قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تهے۔ وه جب اس آیت پر پہنچے جس میں الّٰلہ پاک نے فرعون کے تکبر کا ذکر کیا تھا۔ " وہ فخر ایک دفعه کا ذکر ہے کہ امیرالمومنین ہارون الرشید قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تهے۔ وه جب اس آیت پر پہنچے جس میں الّٰلہ پاک نے فرعون کے تکبر کا ذکر کیا تھا۔ " وہ فخر Rating:
scroll to top