ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تازہ ترین » لاہور کا ثقافتی ورثہ اورنج لائن منصوبہ کی نظر:

لاہور کا ثقافتی ورثہ اورنج لائن منصوبہ کی نظر:

لاہور جس کا شمار پاکستان کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے، تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔س کی طویل تاریخ ماضی کے سحر میں گُم ہے اور اس کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں صرف اور صرف روایات اور قیاس ملتے ہیں مگر عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ راجہ رام چندر جی ( ١٢٠٠ق م ۔ ٨٠٠ ق م ) کے دو بیٹے تھے ایک کا نام “ قصوہ “ تھا جس نے قصور کی بنیاد رکھی اور دوسرے کا نام “ لوہ “ تھا جس نے لاہور بسایا۔ شروع مین اس شہر کا نام “ لہور “ تھا جو آہستہ آہستہ لاہور بن گیا۔ اس تاریخی روایت سے اس کا قدیم ہونا ازخود واضح ہو جاتا ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں زیر تعمیر اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ شروع دن سے تنازعات اور تنقید کی زد میں ہے۔ ثقاقتی ماہرین کو اعتراض ہے کہ لاہور کی پہچان، متعدد تاریخی عمارتوں کا وجود اس منصوبے کی وجہ سے خطرے میں پڑ چکا ہے۔ شہر کے اندر قریب دس کلو میٹر کے فاصلے میں گیارہ تاریخی مقامات اور اہم عمارتیں اس منصوبے کی زد میں آرہی ہیں۔اور لاہور ہائی کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی راہ میں آنے والی ان عمارتوں کے قریب دو سو فٹ کی حدود میں ہر طرح کی تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کررکھی ہے اس کے باوجود اس منصوبے پر کام جاری ہے۔اگر ہم اس منصوبے سے متاثر ثقافتی اور تاریخی عمارات کے ورثے کا ذکر کریں تو وہ مندرجہ ذیل ہے:
عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس تاریخی باغ کی دیوار کے ساتھ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے دو منزلہ مکان جتنے اونچے ستون گاڑنے کے لیے لوہے کی چادریں لگا دی گئی ہیں۔یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے عین سامنے 17ویں صدی کی یہ عمارت بدھو نامی ایک کمہار سے منسوب ہے جس نے پکی اینٹوں کے کام سے اتنی دولت جمع کر لی کہ اپنے لیے ایک شاندار مقبرہ تعمیر کروا سکے۔ یہیں قریب ہی بدھو کے آوے یعنی اینٹ پکانے والی بھٹی کے آثار بھی تھے۔لکشمی بلڈنگ کو قدیم اور جدید لاہور کا سنگم کہتے ہیں۔ شہر میں دیسی کھانوں کا سب سے بڑا مرکز لکشمی چوک ہے، لاہور ہائی کورٹ کے اس حکم نامے کے بعد جس کے تحت گیارہ تاریخی اور اہم عمارتوں کے قریب تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائدکی گئی ہے، اورنج لائن میٹرو ٹرین کے ٹھیکیداروں کی جانب سے لکشمی بلڈنگ کے قریب اشتہار لگا دیے گئے ہیں جن پر لکھا ہے کہ ہائی کورٹ کے حکم سے تعمیراتی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
اسکے علاوہ منصوبے سے متاثر ہونے والی تاریخی عمارات میں جنرل پوسٹ آفس،گلابی باغ،ایوان اوقاف،سینٹ اینڈریو چرچ،مزار حضرت موج دریا،چو برجی،زیب النسا کا مقبرہ وغیرہ شامل ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ لاہور میں سبک رفتار عوامی ٹرانسپورٹ کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن اس کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبوں پید ل چلنے والوں سے لے کر سائیکل سواروں اور موٹر والوں؛ غرض سب کی سہولت اور ضرورت کو مدنظر رکھا جانا چاہیئے۔ ہم حکومت پاکستان سے اس منصوبے پر فی الفور کام روکنے، تفصیلی جائزے کے انعقاد، منصوبے سے متعلق مسائل کے حل اور بہتر منصوبہ بندی کے تحت کام شروع کرنے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔

لاہور کا ثقافتی ورثہ اورنج لائن منصوبہ کی نظر: Reviewed by on . لاہور جس کا شمار پاکستان کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے، تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔س کی طویل تاریخ ماضی کے سحر میں گُم ہے اور اس لاہور جس کا شمار پاکستان کے قدیم شہروں میں ہوتا ہے، تہذیبی، تمدنی اور ثقافتی لحاظ سے ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔س کی طویل تاریخ ماضی کے سحر میں گُم ہے اور اس Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top