جمعرات , 27 جولائی 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » لاہور کی تاریخ

لاہور کی تاریخ

لاہور پاکستانیوں کا دل اور پنجابیوں کی جان ہے۔ بلاشبہ یہ پاکستان کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہےاس کی تاریخ قبل از مسیح سے بهی پہلے کی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ لاہور کا پہلا نام ہندئوں کے بھگوان رام کے بیٹے لاوا پر تھا اور اس وقت لاہور پر ان کا راج تھا۔ ۹۸۲ میں لکھی ہوئی ایک کتاب کے مطابق اس وقت لاہور ایک متاثر کن شہر تھا جس میں خوبصورت مندر پائے جاتے ہیں۔ ایک چینی کے مطابق جس نے لاہور اس وقت دیکھا تھا اس وقت لاہور پر راجپوت ہندئوں کا راج تھا۔ کچھ عرصے بعد اس کا نام لوانا کہلانے لگا جو لوہا اور رانا سے مل کر بنا تها.
تاریخ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک لاہور پر ہندئوں نے راج کیا تھا۔ پرتهوی راج چوہان کو شکست دے کر مسلمانوں نے ہندوستان میں قدم جما لیے۔ اس کے بعد سلطان محمد غزنوی نے ہندوستان کے بڑے علاقے کو فتح کیا اور لاہور کو اپنی سلطنت کا دار الحکومت منتخب کیا۔ یہ۱۰۲۱ء کی بات تهی۔
سلطان محمد غزنوی کے بعد لاہور پر بہت سے مسلمانوں نے حکومت کیں ان میں سے تغلق ، لودھی، سید اور سوری شامل تھے۔ قطب الدین ایبک کی تاجپوشی بھی سن ۱۲۰ ۶ میں اسی شہر ہوئی تھی۔ پھر ۱۲۲۱ میں منگولوں نے اس علاقے کو فتح کر کے بلکل تباہ کردیا تھا ۔
اس کے بعد یہاں پر مغلوں کا راج ہوا جس نے اس شہر کو جلا بخشی اور عروج دیا ۔ اگلے ۳۰۰ سالوں تک لاہور پر مغلوں نے راج کیا۔ ۱۵۲۴ ء سے لے کر ۱۷۵۲ ء تک۔ مغلوں کی فن تعمیر آج تک دیکھنے والی ہے۔ انھوں نے اس شہر کو خوبصورت عمارتوں سے مزین کر کے اس کا طرز زندگی بلند کیا۔
سترھویں صدی میں یه شهر کئی بادشاہوں کے درمیان متنازغہ بنا رہا جس کے سبب یہ چھوٹے چھوٹے علاقوں میں تقسیم هوگیا۔ اٹهارہویں صدی میں اس علاقے پر سکهوں کا راج پلند ہوا۔ رنجیت سنگھ کے مرنے کے بعد یہ شہر برطانوی حکومت کے پاس چلا گیا۔
برطانوی حکومت نے لاہور میں مزید تعلیم کو روشناس کروایا اور وهاں پر نیشنل کالج آف آرٹس ، میوزیم اور دوسرے تعلیمی اداروں کا افتتاح کیا۔ آزادی کے پعد یہ شہر پاکستان کا حصہ اور پنجاب کا دارالحکومت بنا۔

لاہور کی تاریخ Reviewed by on . لاہور پاکستانیوں کا دل اور پنجابیوں کی جان ہے۔ بلاشبہ یہ پاکستان کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہےاس کی تاریخ قبل از مسیح سے بهی پہلے کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور لاہور پاکستانیوں کا دل اور پنجابیوں کی جان ہے۔ بلاشبہ یہ پاکستان کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہےاس کی تاریخ قبل از مسیح سے بهی پہلے کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور Rating:
scroll to top