بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اضافی » ماحولیاتی آلودگی، ماحول کے حسن کی تباہی

ماحولیاتی آلودگی، ماحول کے حسن کی تباہی

آج سے تقریباً ہزاروں سال پہلے جب انسان دنیاوی ترقی سے انجان تھا تو اسے اپنے آرام و آسائش کی فکر تھی۔ انسان نے اپنے لئے آسانی پیدا کرنے کی غرض سے نئی نئی اشیاءبنائیں او ر ان اشیاءکی تخلیق کے لئے درختوں کی کٹائی کی گئی۔ ماحولیاتی آلودگی کی ابتداءبس یہاں سے شروع ہوئی۔ انسان تمام نقصانات سے انجان ہو کر درختوں کی کٹائی کرتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کے جنگل صاف ہو گئے۔ اب بھی انسان ایسا ہی کر رہا ہے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ آج انسان کو معلوم ہے کہ وہ اپنی تباہی کا سامان خود پیدا کر رہا ہے لیکن پھر بھی ماحول کو اپنے ہاتھوں سے تباہ کر رہا ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک اس آلودگی سے تنگ ہیں اور متعدد اقدامات کر رہے ہیں مگر اس میں کامیابی کا تناسب بہت کم ہے جس کی سب سے بڑی وجہ آبادی میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ ہے۔ آبادی کے اضافے کے باعث جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
وطن عزیز پاکستان میں بھی ماحولیاتی آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گلی، بازار، محلوں اور تفریحی مقامات میں گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ گندگی خود بخود نہیں پھیل رہی بلکہ اس کو ہم خود پھیلا رہے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی آج کے دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔ علاوہ ازیں کچرے کے ڈھیر میں آگ لگا دی جاتی ہے جس کا دھواں بھی مضر صحت ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کا ایک چوتھائی رقبہ جنگلات پر مشتمل ہونا لازمی ہے جبکہ پاکستان کا تقریباً صرف ۴ فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جو کہ اب بھی کاٹا جا رہا ہے۔
بسوں اور گاڑیوں کا دھواں ماحول میں زہریلی گیسوںکو جنم دے رہا ہے اورکوڑے کے ڈھیر گندگی پھیلا رہے ہیں۔ ماحول کوکوڑے اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے بچانے کے لئے موئثر انتظام اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ روزانہ حاصل ہونے والے لاکھوں ٹن کوڑا کو توانائی حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اس طرح ماحول کی آلودگی اور توانائی کی کمی دونوں مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر گاڑیوں کا شور اور دھویں ہر وقت ہی نظر آتا ہے۔
بسوں اور گاڑیوں کے دھویں سے نمٹنے کے لئے بائیو ایندھن کا استعمال کیا جائے کیونکہ یہ ماحول دوست ہوتا ہے اور اس سے نکلنے والا دھواں ماحول کو نقصان نہیں پہچاتا۔ماہرین ماحولیات کے مطابق حکومت پاکستان اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان روابط کے فقدان کی وجہ سے حالات مزید پیچیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔
تمباکو نوشی کے دھوئیں اور ہوا میں سیسے کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی صحت اور بالخصوص بچوں کی صحت کےلئے انتہائی خطرناک ہے جو مختلف رپورٹس سے بھی ثابت ہو چکا ہے۔ سائنس دانوں کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق اگر کاربن کے اخراج پر قابو بھی پا لیا جائے تب بھی عالمی درجہ حرارت ایک ہزار برس تک زیادہ ہی رہے گا۔سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ماحول میں کاربن کی شرح بڑھتی رہی تودنیا کے دیگر ممالک بارشوں کی کمی کے باعث خشک سالی کا شکار ہو جائیں گے۔
سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص مسلسل شور کے ماحول میں زندگی بسر کرتا ہے تو اس کے سننے کی حس بتدریج زائل ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی شور کی آلودگی جس میں ٹریفک کا شور شامل ہے، جس کی وجہ سے انسان اعصابی تناﺅ، بے چینی اور طبعیت میں چڑچڑے پن کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ جنریٹر یا مشینوں کی آواز کی وجہ سے یا اچانک تیز دروازے کی گھنٹی کی وجہ سے نیند ٹوٹ جاتی ہے یا اس میں خلل آجائے تو انسان کی طبعیت میں مزید بے سکونی بڑھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے دل کی بیماریاں اور ذہنی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں ایسے مقامات بہت کم ہیں جہاں شور کا مسئلہ نہیں ہے۔
آلودہ پانی کی بات کی جائے تو منرل واٹر (جس کو ہم جراثیم سے پاک کہتے ہیں) خیال کیا جاتا ہے: چند ہی دنوں پہلے انکشاف ہوا ہے کہ منرل واٹر بھی صرف نام کا ہی صاف پانی ہے لوگ پیسے دے کر بھی جراثیم زدہ پانی ہی پیتے ہیں کیونکہ چند لوگ منرل واٹر کے نام پر گندے پانی کو پلاسٹک کی بوتلوں میں بند کر کے بیچ رہے ہیں اور ان لوگوں کے خلاف مناسب قانونی معیار نہ ہونے کی وجہ سے اقدامات نہیں کیئے جارہے ہیں۔ ہوا کا آلودہ ہوجانا نہ صرف ماحول بلکہ انسانوں کی صحت کےلئے بھی انتہائی مضر ہے۔ پاکستان میں سگریٹ نوشی کے دھوئیں کی مقدار ۰۰۸۱ مائیکرو گرام فی اسکوائر میٹر تک پائی جاتی ہے۔
ماحولیاتی آلودگی میں گاڑیوں کا دھواں کئی بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی اور گرم ماحول سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور درجہ حرارت کے بڑھنے کی وجہ سے خواتین کی جسمانی کارکردگی تیس فیصد جبکہ دماغی کارکردگی پچاس فیصد تک رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے خواتین دماغی دباﺅاور دیگر بیماریوں کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ فضائی آلودگی کے سبب لوگوں کو سانس کی مختلف الرجیز کے علاوہ دمہ کی بھی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ حکومت کو ان مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام ایک صاف اور صحت مند ماحول میں زندگی بسر کر سکیں۔

ماحولیاتی آلودگی، ماحول کے حسن کی تباہی Reviewed by on . آج سے تقریباً ہزاروں سال پہلے جب انسان دنیاوی ترقی سے انجان تھا تو اسے اپنے آرام و آسائش کی فکر تھی۔ انسان نے اپنے لئے آسانی پیدا کرنے کی غرض سے نئی نئی اشیاءبن آج سے تقریباً ہزاروں سال پہلے جب انسان دنیاوی ترقی سے انجان تھا تو اسے اپنے آرام و آسائش کی فکر تھی۔ انسان نے اپنے لئے آسانی پیدا کرنے کی غرض سے نئی نئی اشیاءبن Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top