بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » اہم » متحرک طرز زندگی صحت مند بڑھاپے کا ضامن

متحرک طرز زندگی صحت مند بڑھاپے کا ضامن

کم اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بزرگ افراد کا عالمی دن منایا گیا. رواں برس اس دن کا مرکزی خیال ’بڑھاپے کے خلاف قدم اٹھانا‘تھا.س کا مطلب دراصل عمر کی بنیاد پر مخصوص رویوں کے خلاف قدم اٹھانا ہے۔امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایجنگ کے مطابق سنہ 2010 تک دنیا بھر 65 سال کی عمر سے زائد 52.4 کروڑ افراد موجود تھے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق دنیا کی 10.8 فیصد آبادی بزرگوں پر مشتمل ہے۔تاہم حال ہی میں جاری کی جانے والی ایک تحقیقی رپورٹ سے پتہ چلا کہ صرف ایشیا میں معمر افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایشیا میں اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ تقریباً 2 کروڑ معمر افراد موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں معمر افراد کی موجودگی کے باعث مختلف ایشیائی ممالک اپنے صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ معمر افراد کی دیکھ بھال پر خرچ کر رہے ہیں اور رواں برس ایشیا کا شعبہ صحت اب تک معمر افراد کی دیکھ بھال پر 2.5 بلین ڈالر سے زائد رقم خرچ کر چکا ہے۔ یہ رقم 2015 میں خرچ کی جانے والی رقم سے 5 گنا زیادہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھاپے میں لاحق ہونے والی مختلف بیماریوں جیسے ڈیمنشیا، الزائمر، اور دیگر جسمانی بیماریوں سے محفوط رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اوائل عمری سے ہی صحت کا خیال رکھا جائے اور صحت مند غذائی عادات اپنائی جائیں۔ بچپن سے متحرک طرز زندگی گزارنا بڑھاپے میں جوڑوں کے درد اور مختلف قسم کی تکالیف سے نجات دے سکتا ہے۔
بڑھاپا روکنے والی 5 غذائیں *
اسی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آپ کو مصروف رکھا جائے تو ذہنی بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر کم محنت والی کوئی جز وقتی ملازمت، کوئی زبان سیکھنے کا کورس، کوئی مشغلہ جیسے باغبانی اپنانا، یا رضا کارانہ طور پر کمیونٹی خدمات انجام دینا بڑھاپے کی روایتی بیماریوں سے کسی حد تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کیا ہوتا ہے؟ *
ایک تحقیق کے مطابق جب لوگ اپنے بارے میں یہ تصور کرلیتے ہیں کہ وہ بوڑھے ہوگئے ہیں تو وہ حقیقتاً بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ ماہرین نے اس تحقیق کے لیے بوڑھے، اور بڑھاپے میں چست رہنے والے افراد کا انتخاب کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ وہ افراد جو بڑھاپے میں بھی چست تھے، دراصل وہ کبھی بھی یہ سوچ کر کسی کام سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے کہ زائد العمری کی وجہ سے اب وہ اسے نہیں کرسکتے۔وہ نئے تجربات بھی کرتے تھے اور ایسے کام بھی کرتے تھے جو انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں کیے۔ یہی نہیں وہ ہمیشہ کی طرح اپنا کام خود کرتے تھے اور بوڑھا ہونے کی توجیہہ دے کر اپنے کاموں کی ذمہ داری دوسروں پر نہیں ڈالتے تھے۔ماہرین نے دیکھا کہ ایسے افراد بڑھاپے میں لاحق ہونے والی عام بیماریوں جیسے جوڑوں میں درد، دماغی امراض اور جسمانی بوسیدگی کا شکار کم تھے۔اس کے برعکس بوڑھے دکھنے والے افراد ہر کام سے یہی سوچ کر پیچھے ہٹ جاتے تھے کہ وہ اب بوڑھے ہوگئے ہیں اور یہ کام نہیں کرسکتے۔ وہ جسمانی طور پر کم غیر فعال تھے اور نتیجتاً کئی ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار تھے۔

متحرک طرز زندگی صحت مند بڑھاپے کا ضامن Reviewed by on . کم اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بزرگ افراد کا عالمی دن منایا گیا. رواں برس اس دن کا مرکزی خیال ’بڑھاپے کے خلاف قدم اٹھانا‘تھا.س کا مطلب دراصل عمر کی بنیا کم اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بزرگ افراد کا عالمی دن منایا گیا. رواں برس اس دن کا مرکزی خیال ’بڑھاپے کے خلاف قدم اٹھانا‘تھا.س کا مطلب دراصل عمر کی بنیا Rating: 0

Leave a Comment

scroll to top