پیر , 23 اکتوبر 2017

Home » اضافی » محبت کی عظیم یادگار تاج محل

محبت کی عظیم یادگار تاج محل

تاج محل آگرہ شہر میں واقع ایک مقبرہ ہے. اس کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہا ں نے، اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی.
تاج محل مغل طرز تعمیرکا عمدہ نمونہ ہے. اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارت اور اسلامی طرز تعمیرکے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے. ۱۹۸۳ میں، تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا. اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا. تاج محل کو بھارت کی اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے. یہ ۱۶۴۸ میں تقریبا مکمل تعمیر کیا گیا. استاد احمد لاهوری کو عام طور پر اس کا معمارخیال کیا جاتا ہے.
تعمیر
ممتاز محل کا مقبرہ جو بھارت کے شہر آگرہ میں واقع ہے، کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئیر نے اسکا نقشہ تیار کیا تھا لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا۔ یہ عمارت ۱۶۳۲ءسے ۱۶۵۰ءتک کل۲۵ سال میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ تمام عمارت سنگ مرمرکی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی ۱۳۰ فٹ اور بلندی ۲۰۰ فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔ عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینارہے۔ عمارت کا چبوترہ، جو سطح زمین سے کئی فٹ اونچا ہے ، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنابہتا ہے اور سامنے کی طرف ، کرسی کے نیچے ایک حوض ہے۔ جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ طرز کا خوبصورت باغ بھی ہے اس مقبرے کے اندر ملکہ ممتاز محل اور شاہجہان کی قبریں ہیں۔
سیاحت
ہر سال اس تاریخی یادگار کو ۳۰ لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں یہ تعداد بھارت کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثالی عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔سن ۱۸۷۴ میں برطانوی سیاح ایڈورڈ لئیر نے کہا تھا کہ "دنیا کے باشندوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک وہ جنہوں نے تاج محل کا دیدار کیا اور دوسرے جو اس سے محروم رہے۔"
پیلا تاج محل
آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث محبت کی اس عظیم یادگار کی رنگت سفید سے پیلی ہو گئی ہے ۔ یہ بات مئی ۲۰۰۷ءمیں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگرہ میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے تاج محل کے جگمگاتے سفید سنگ مر مر کو نقصان پہنچا ہے۔ آلودگی کے باعث اس تاریخی یادگار کی حقیقی خوبصورتی متاثر ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں تاج محل کی خوبصورتی بچانے اور سنگ مر مر کو اس کی اصل شکل میں برقرار رکھنے کے لیے اسے صاف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
عجوبہ
۲۰۰۷ میں ایک بین الاقوامی مقابلے کے ذریعے طے پانے والے دورِ جدید کے سات عجائبات میں آگرہ کے تاج محل کو بھی شامل کیا گیا۔

محبت کی عظیم یادگار تاج محل Reviewed by on . تاج محل آگرہ شہر میں واقع ایک مقبرہ ہے. اس کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہا ں نے، اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی. تاج محل مغل طرز تعمیرکا عمدہ نمونہ ہے. ا تاج محل آگرہ شہر میں واقع ایک مقبرہ ہے. اس کی تعمیر مغل بادشاہ شاہ جہا ں نے، اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی. تاج محل مغل طرز تعمیرکا عمدہ نمونہ ہے. ا Rating:
scroll to top