ہفتہ , 21 اکتوبر 2017

Home » تحقیق و جستجو » مراۃ العروس

مراۃ العروس

بلاشبہ اردو کا پہلا ناول مراۃ العروس ۱۸۶۹ میں لکھا گیا ۔ اس کے مصنف مولوی نذیر احمد کو کون نہیں جانتا جن کے بارے میں کہا گیا ہے که اردوزبان میں سب سے پہلے جس شخصیت نے باقاعدہ طور پر ناول نگاری کا آغاز کیا اس کا نام مولوی نذیر احمدہے۔
١٨٥٧ کی جنگِ آزادی کے بعد تعلیم کی ضرورت اور بڑھ گئی. یہ وه وقت تھا جب عورتوں کی تعلیم پر کوئی توجہ نہ دیتا تھا۔ نذیر احمد نے اپنے قصوں کے ذریعے سے جمہور کی معاشرتی اصلاحی اور نئی نسلوں ، خصوصاً طبقہ نسوا ں کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا۔اُن کے ناولوں کا مقصد مسلمانان ہند کا اصلاح اور ان کو صحیح راستے پر ڈالنا تھا۔اس وقت کی ضرورت کو مدِ نظر رکھتےهوئے یہ ناول اصلاحی طورپر لکھا گیا لیکن اصلاح کے ساتھ ساتھ انھوں نے اردو ادب کو اپنے ناولوں کے ذریعے بہترین کرداروں سے نوازا۔ جو آج بهی کسی عورت کے لیے اتنا ہی مدگار ہے جتنا اس وقت تھا۔
مراۃ العروس یعنی دلہن کا آئینہ اس میں سچ میں دلہن کے لیے ایک بہترین تحفہ رکھا گیا ہے۔ اکبری، اصغری دو بہنوں کی کہانی ہم بچپن سےہی پڑھتے آرہے ہیں۔ اکبری پھوہڑ اور لاپرواہ جب کہ اصغری اس سے بلکل الٹ۔ مولوی نذیر احمد کے کرداروں کے ناموں میں بھی بڑی دلچسپی ہیں وہ نام اسم باسمیٰ رکھتے ہیں ۔ جیسے دور اندیش خان کو دور اندیش دکھایا ہے۔ اور اکبری بڑی اور اصغری چھوٹی۔

Mirah Tul Uroos
اکبری پہلی اولاد هوتی ہے اور کچھ نانی کے هاتھوں پلتی ہے جس نے اپنے لاڈ پیار سے اسے بگاڑ دیا هوتا ہے۔اکبری بے پرواہ لڑکی ہے اور شادی کرنے کے بعد بھی اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ وہی بچوں والی حرکتیں ، اور بچوں والے کھیل ۔لیکن اُس کی اس بد مزاجی اور لاڈلے پن میں اس کی تربیت کابڑا ہاتھ ہے۔ یہی بدمزاجی اس کے لئے آگے چل کر بہت سے مسائل کا سبب بنتی ہے۔ جب کہ اصغری کی تربیت میں گھر والے اکبری سے نصیحت لے کے کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود اصغری کی تربیت اپنی بڑی بہن کے مقابلے میں بہترین انداز میں ہوئی ہے۔ یہاں یہ بات زیاده غور طلب ہے کہ پہلی اولاد کو بےجا چھوٹ نہیں دینی چاہیے۔
اصغری کے کردار میں ساری خوبیاں رکھ کے اسے ایک مثال بنا کے پیش کیا ہے۔ جہاں اصغری اپنے ماں باپ کے گھر میں ہوشیار ، ہنر مندی اور رکھ رکھائو والی تھی وہاں اپنے سسرال میں بھی اُس نے وہی رنگ برقرار رکھا۔ وہ اپنے سسرال کو اپنی عقل مندی سے قرض داروں سے آزاد کر الیتی ہے اور ماماعظمت جیسی نمک حرام کا چہرہ سب لوگوں پر واضح کرکے اُسے اپنے سسرال سے نکال باہر کرتی ہے۔ یہاں ایک اصغری کے کردار میں جھول بھی ہے کہ اسے ہر قسم کی خوبیوں سے آراستہ کیا هوا ہے۔ جبکہ حقیقت میں کوئی انسان خامیوں سے مبرا نهیں ھے۔
ان سب کے باوجود مراۃ العروس ایک بہترین ناول ہے آٹھارہویں صدی میں یہی ناول ہر عورت کے جہیز کی زینت اور ایک عمدہ نصیحت بنا رہا۔ ہر لڑکی کو شادی سے پہلے اس دلہن کے آئینہ میں جھانک کے ضرور دیکھنا چاہیے۔

مراۃ العروس Reviewed by on . بلاشبہ اردو کا پہلا ناول مراۃ العروس ۱۸۶۹ میں لکھا گیا ۔ اس کے مصنف مولوی نذیر احمد کو کون نہیں جانتا جن کے بارے میں کہا گیا ہے که اردوزبان میں سب سے پہلے جس شخ بلاشبہ اردو کا پہلا ناول مراۃ العروس ۱۸۶۹ میں لکھا گیا ۔ اس کے مصنف مولوی نذیر احمد کو کون نہیں جانتا جن کے بارے میں کہا گیا ہے که اردوزبان میں سب سے پہلے جس شخ Rating:
scroll to top