جمعہ , 20 اکتوبر 2017

Home » کالم و مضامین » مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ

صبح کی نشریات کا جب نام آئے اور مستنصر حسین تارڑ کا نام نہ آئے یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پاکستان میں ہر فن مولامستنصر حسین تارڑ نے ہی چاچا جی کے کردار کو زندہ کیا اور آج تک زندہ جاوید ہے.وه نه صرف صبح کی نشریات میں بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے تهے. بلکه بهت بهترین اداکار، ناول نگار اور سفرنامه نگار ہے. تو آج ان کی زندگی کے چند پهلؤں پر نظر ڈالتے هیں.
ابتدائی زندگی
مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ ۱۹۳۹ کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد، رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا۔ سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول، اور مسلم ماڈل ہائی اسکول سے حاصل کیں۔
اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ ۱۹۵۷ میں شوق آوارگی انھیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گیا۔ اُس سفر کی روداد ۱۹۵۹ میں ہفت روزہ قندیل میں شایع ہوئی۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔ پاکستان لوٹنے کے بعد جب اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا، جو ۱۹۷۴ءمیں نشر ہوا۔
کامیابیاں
آنے والے برسوں میں انهوں نے جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو عروج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ۱۹۶۹ میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ ۱۹۷۱ءمیں شایع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِس کتاب کو ملنے والی پذیرائی کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگلا سفر نامہ ”اندلس میں اجنبی“ تھا.
بیالیس برسوں میں تیس سفرنامے شایع ہوئے۔ بارہ صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ”کے ٹو“ پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو ”تارڑ جھیل“ کا نام دیا گیا۔
ناول نگاری
سفرناموں کے میدان میں اپنا سکا جما کر ناول نگاری کی جانب آگئے۔ اولین ناول ”پیار کا پہلا شہر“ ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ ”راکھ“ اور ”بہاﺅ“ کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً ”بہاﺅ“ میں اُن کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کیا۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ ”راکھ“ کو ۱۹۹۹ میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔
مستنصر حسین تارڑ اردو ادب کے ایک معروف لکھاری ہیں .. پاکستان میں ان کی کتابیں بہت زیادہ خریدی اور پڑھی جاتی ہیں..مستنصر صاحب اب تک تقریباً پچاس کے لگ بھگ کتابیں لکھ چکے ہیں. ان کی وجہ شہرت سفر ناموں کے ساتھ کی ناول نگاری بھی ہے.

تبصره و تنقید
اردو ادب کے مشہور ناول نگار عبدللہ حسین بھاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے-رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی.."
اس کے علاوہ "راکھ ،خس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی..تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناولز ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے.."خس و خا شا ک زمانے"کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے.." جب که "پیار کا پہلا شہر اور قربت مرگ" میں محبت مقبول عام ہیں..ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہرپڑھ نہ رکھا ہو.
ناولز اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے ..جن میں شہپر ،ہزاروں راستے،پرندے،سورج کے ساتھ ساتھ،ایک حقیقت ایک افسانہ،کیلاش اور فریب شامل ہیں..اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں ..ان کے کالموں کے مجموعہ بھی چک چک،الو ہمارے بھائی ہیں،گدھے ہمارے بھائی ہیں، کے نام سے آچکے ہیں..آجکل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقائدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوے ہیں.. انکی کتب زیادہ تر سفر نامے ہيں اور یہ یورپمشرق وسطی اور شمالی پاکستانکی سیاحت پر مشتمل ہیں۔
کتابیں
نمایاں سفرناموں کے نام یہ ہیں: خانہ بدوش، نانگا پربت، نیپال نگری، سفرشمال کے، اسنولیک، کالاش، پتلی پیکنگ کی، ماسکو کی سفید راتیں، یاک سرائے، ہیلو ہالینڈ اور الاسکا ہائی وے۔
اور ناول راکھ ، بہاؤ، خس و خاشاک زمانے، اے غزال شب قربت مرگ میں، محبت بکھیرو، سیاہ آنکھ میں تصویر اور پیار کا پهلا شهر ہیں.

مستنصر حسین تارڑ Reviewed by on . صبح کی نشریات کا جب نام آئے اور مستنصر حسین تارڑ کا نام نہ آئے یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پاکستان میں ہر فن مولامستنصر حسین تارڑ نے ہی چاچا جی کے کردار کو زندہ کیا اور صبح کی نشریات کا جب نام آئے اور مستنصر حسین تارڑ کا نام نہ آئے یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ پاکستان میں ہر فن مولامستنصر حسین تارڑ نے ہی چاچا جی کے کردار کو زندہ کیا اور Rating:
scroll to top