بدھ , 18 اکتوبر 2017

Home » تاریخ کے جھروکے سے » مسجد وزیر خان

مسجد وزیر خان

                      Masjid Wazir Ali Khan 04         لاہور میں واقع "مسجدوزیرخان " کو " لاہورکی گال پرتل " کہہ کر wazir-khan-mosqueواضع کیاجاتا ہے ۔ یہ مسجد اپنے وسیع ٹائل ورک کی وجہ سے جانی جاتی ھے۔ مسجد تقریباً 1635-1634 کے درمیان شروع ہوئی اوراس کی تعمیر میں 7 سال کا عرصہ لگا۔

مسجد کو مغل بادشاہ "شاہ جہان" کے دور میں تعمیر کیا گیا ۔ اس خوبصورت مسجد کی تعمیر کا ذمہ حکیم شاہ علمُ الدین کے سر تھا جوکہ چنیوٹ کا رہنے والے تھے ۔ شاہ علمُ الدین لاہور کے گورنر بھی تھے اور وزیر خان کے نام سے جانے جاتے تھے اسی وجہ سے مسجد کا نام بھی "وزیر خان " ھی رکھا گیا ۔

                          مسجد اندرونِ لاہورمیں دہلی گیٹ کے پاس واقع ہے ۔ یہ مسجد مغل دور کے "کاشنی ٹائل ورک "کا ایک بہت بڑا نمونہ ھے ۔ مسجد کا اندرونی حصہ اتنی خوبصورتی سے بنایا گیا ھے کہ دیکھنے والے کی آنکھ دنگ رھ جاتی ھے ۔ خوبصورت ٹائل ورک میں بہت خوبصورتی سے اللہ کے نام کو تراشا گیا ھے ۔ مسجد کے اندرونی صحن میں "سید محمد اسحاق کا مقبرا ھے جنہیں میراں بادشاہ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔جو تغلق خاندان کے وقت کے دوران

mosques-51eایران سے آکر لاہور میں آباد ہو گئے تھے ۔

مسجد وزیر خان Reviewed by on .                                لاہور میں واقع "مسجدوزیرخان " کو " لاہورکی گال پرتل " کہہ کر واضع کیاجاتا ہے ۔ یہ مسجد اپنے وسیع ٹائل ورک کی وجہ سے جانی جاتی ھے۔                                لاہور میں واقع "مسجدوزیرخان " کو " لاہورکی گال پرتل " کہہ کر واضع کیاجاتا ہے ۔ یہ مسجد اپنے وسیع ٹائل ورک کی وجہ سے جانی جاتی ھے۔ Rating:
scroll to top